فرموداتِ مصلح موعود — Page 249
۲۴۹ خلع سکتی ہے اور اگر خاوند طلاق نہ دے تو بذریعہ حاکم وقت وہ خلع کراسکتی ہے۔الفضل ۲۲ جون ۱۹۵۴ء صفحه۲ ) ( فائل فیصلہ جات نمبر ۲۔دارالقضاء- صفحه ۵۳) خلع کے لئے وجہ منافرت زیر بحث آنا چاھئے قاضی عدالت اولی نے فیصلہ کیا ہے اس میں جو وجہ بتائی گئی ہے کہ منافرت کی وجہ سے ضلع کیا جاتا ہے درست نہیں کیونکہ منافرت کا سوال ابتداء میں ہوتا ہے۔شکل و شباہت یا تعلقات شہوانی کے ادا کرنے کے متعلق تو پہلے چھ آٹھ دن میں ہی اور اخلاق کے متعلق پہلے پانچ چھ ماہ میں اندازہ ہو جاتا ہے۔اس کے بعد خصوصاً جب کہ لمبا عرصہ گزرجائے منافرت کا سوال نہیں ہوتا۔ضرور ہے کہ اس وقت اختلاف کے کوئی اور بواعث ہوں۔چاہئے کہ وہ زیر بحث لائے جاویں گواس وقت بھی بعض امور ایسے ہو سکتے ہیں جن کو عدالتی طور پر زیر بحث لا نا مناسب نہ ہو۔مگر بہر حال قاضی کو اپنے فیصلہ میں یہ بتانا چاہئے کہ اس نے پورے طور پر تسلی کر لی ہے کہ عورت اور مرد کی صلح کی کوئی صورت نہیں۔(فائل فیصلہ جات نمبر ۲ - صفحه ۴۴۔دارالقضاء، ربوہ) خلع کے لئے اتنا کافی ہے کہ عورت کو خاوند سے شدید نفرت ہے اور اس کی اس نفرت کا موجب کوئی غیر شرعی امور نہیں۔(فائل فیصلہ جات نمبر ۳۔صفحہ ۲۹۔دارالقضاء، ربوہ) مومن کا فرض ہے کہ اگر اس کی عورت ذرا بھی انقباض ظاہر کرے تو وہ اسے فوراً چھوڑ دے۔احادیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ آتا ہے کہ آپ نے ایک عورت سے شادی کی۔جب آپ اس کے پاس گئے تو اس نے کہا ” اعوذ بالله منك “ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے مجھ سے بڑی طاقت کی پناہ مانگی ہے اس لئے میری طرف سے تمہیں طلاق ہے۔تو مومن کا یہ کام ہے کہ اگر اس کی عورت اس کو نا پسند کرتی ہو تو فوراً اسے چھوڑنے پر تیار ہو جائے۔اگر وہ ایسا نہیں