فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 248

۲۴۸ خلع کرے کہ یہ درخواست ایسی ہے کہ خاوند کے گھر سے باہر رہ کر دی جاسکتی ہے تو با قاعدہ کارروائی کرے اور اگر اس کے نزدیک خاوند کے گھر میں جانے کے بغیر نہیں دی جاسکتی تو بغیر دوسرے فریق کو اطلاع دینے کے درخواست واپس کر دے پھر اس سرسری کا رروائی کی اپیل نہیں ہوگی اور نہ اس کی مسل رکھی جاوے گی تا کہ وہ دوبارہ اپنے نفع نقصان سمجھ لیں۔اس کے بعد اگر وہ دوبارہ نالش کریں تو چونکہ انہوں نے اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو سمجھ لیا ہوگا اس لئے ایسی درخواست کے دوبارہ پیش ہونے پر فریق ثانی کو نوٹس دیا جاوے اور حسب قاعدہ سماعت ہومگر اس میں بھی پہلے یہ سوال زیر غور آئے گا کہ کیا درخواست دہندہ کو خاوند کے گھر سے باہر رہ کر درخواست کرنے کا حق ہے یا نہیں۔اس کی اپیل ہو سکے گی۔(فائل فیصلہ جات نمبر ۲۔صفحہ ۴۷۔دارالقضاء، ربوہ ) مختلعه پہلے خاوند سے نکاح کرسکتی ھے نقل طلاق نامہ سے بالکل واضح ہے کہ یہ ضلع ہے اور اس پر لڑ کی کی تصدیق بھی موجود ہے۔اور جب لڑکی کا اپنا بیان ہے کہ وہ علیحدگی چاہتی ہے اور مہر چھوڑتی ہے جسے خاوند نے منظور کر لیا ہے تو یہ خلع ہوا اور خلع میں رجوع کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ہاں اگر لڑکی چاہے تو نکاح جدید ( پہلے خاوند سے ) کرسکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو حوالجات پیش کئے گئے ہیں ان سے مراد یہ ہے کہ اگر عورت کے کہنے پر خاوند اسے نکاح سے آزاد نہ کرے تو عورت خود بخود آزاد نہیں ہو سکتی بلکہ اس صورت میں اسے قاضی کے ذریعہ طلاق حاصل کرنی پڑے گی یعنی جیسا کہ مرد اگر عورت کی رضامندی کے بغیر بھی اسے طلاق دے دے تو وہ اس کے عقد زوجیت سے آزاد ہو جائے گی۔لیکن عورت کے مطالبہ طلاق کی صورت میں اگر مردا سے طلاق نہ دے تو عورت خود بخود آزاد نہیں ہو سکتی بلکہ اسے قاضی کے ذریعہ فیصلہ کرانا ضروری ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب چشمہ معرفت کے صفحہ ۲۳۸ پرتحریر فرمایا ہے اگر پہلی بیوی اس نکاح میں اپنی حق تلفی مجھتی ہے تو وہ طلاق لے کر اس جھگڑے سے خلاصی پا