فرموداتِ مصلح موعود — Page 247
۲۴۷ خلع کر سکیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے نفرت کرتی ہے تو وہ اس سے الگ ہو سکتی ہے کیونکہ تعلقات زوجیت محبت پر مبنی ہوتے ہیں۔اگر محبت نہیں رہی تو وہ اپنے خاوند سے الگ ہو جائے۔اگر مرد کہتا ہے کہ اس کی بیوی کے اس سے اچھے تعلقات نہیں تو رشتہ داروں کا ایک بورڈ بیٹھے گا اور وہ اس امر کی تحقیقات کرے گا۔اگر اس کی بات درست ثابت ہوئی تو اسے کہا جائے گا کہ تم اسے طلاق دے دو۔اور اگر عورت کہتی ہے کہ اس کے خاوند کے اس سے اچھے تعلقات نہیں تو اس طرح کا ایک بورڈ عورت کے متعلق بیٹھے گا۔جو معاملہ کی تحقیقات کرے گا اور اگر واقعہ درست ثابت ہوا تو عورت کو خلع کی درخواست قضاء میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔( الفضل ۵/نومبر ۱۹۵۴ء صفحه ۶) فیصله خلع قاضی کے توسط سے ھونا چاھئے خلع قاضیوں کی معرفت ہوتا ہے اور اس میں حقوق کے باطل ہونے کا صاف ذکر ہونا چاہئے۔چونکہ اس طرح نہیں کیا گیا اس لئے اس کو خلع نہیں کہا گیا۔چونکہ یہ طلاق ہے اور مہر ادا کرنا ہوگا۔(فائل فیصلہ جات نمبر ۲ - صفحه ۱۲۔۱۱۔دارالقضاء، ربوہ ) میرے نزدیک قاضی کی معرفت فیصلہ کرنے کی غرض یہ ہے کہ لڑکی پر جبر کا شبہ نہ رہے اور اعلان ہو۔بدکاری میں روک ڈالی جائے اور صرف ایسی صورتوں میں قاضی روک ڈال سکتا ہے۔اگر لڑکی اپنی خوشی سے نکاح کو توڑنا چاہے تو قاضی نصیحت کر سکتا ہے۔فیصلہ کو ایک مناسب عرصہ تک پیچھے ڈال سکتا ہے تا کہ دونوں ٹھنڈے ہو جائیں۔لڑکی کی درخواست کو رد نہیں کر سکتا۔(فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر۲۔صفحہ ۱۴۔دارالقضاء، ربوہ) جب کوئی خلع کی درخواست آوے تو قاضی متعلقہ کو چاہئے کہ خلع کی درخواست کنندہ پارٹی کو تاریخ پیشی دے اور دوسرے فریق کو بالکل اطلاع نہ دے اور اسے سرسری تحقیق کے طور پر تسلی