فرموداتِ مصلح موعود — Page 246
۲۴۶ خلع جوعورتیں ابھی خاوند کے گھر نہ گئی ہوں وہ اس میں شامل نہیں ہیں۔ان کی درخواست پر بغیر ان کے خاوند کے گھر جانے کے سماعت مقدمہ ہو سکتی ہے۔(فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر ا۔صفحہ ۲۔دارالقضاء، ربوہ) عورت کی طرف سے ضلع کی درخواست کے متعلق حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ اپنے خاوند کے گھر رہ کر ضلع کی درخواست کرے بجز اس کے کہ عورت کو خاوند کے گھر رہ کر ضلع کی درخواست دینے سے جان اور ایمان کا خطرہ ہو۔ایسی عورت قضاء کے ذریعہ منظوری لے کر خاوند کے گھر سے باہر بھی خلع کی درخواست کر سکتی ہے۔در حقیقت جب پہلا فیصلہ کیا گیا تھا اس وقت صرف جوان عورتوں کا معاملہ سامنے تھا اور جن کے متعلق یہ شبہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ انہیں ورغلا کر کوئی شخص گھروں کا امن برباد کر رہا ہو۔اس قسم کا معاملہ سامنے نہ تھا سو اس بارہ میں آئندہ کے لئے یہ اصول مقرر کیا جائے کہ پہلا فیصلہ ان عورتوں کے متعلق ہے جن کی عمر چالیس سال سے کم ہو۔جن کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہوان کے متعلق وہ قاعدہ نہ ہو گا بلکہ ان کا معاملہ قاضی کی مرضی پر ہو گا۔حالات کے مطابق وہ ان کی درخواست کو خاوند کے گھر سے باہر پیش ہونے کی صورت میں بھی قبول کر سکتا ہے اور اگر ایسے حالات ہوں کہ اس کے نزدیک خاوند کے ہاں اس کا جانا نیک نتیجہ پیدا کر سکتا ہے تو وہ یہ حکم بھی دے سکتا ہے کہ عورت خاوند کے ہاں جا کر پھر درخواست دے ہاں یہ مد نظر رہنا چاہئے کہ عورت کو بلا وجہ خطرہ میں نہ ڈالا جائے۔خلع الفضل یکم اگست ۱۹۴۲ء۔جلد ۳۰ نمبر۱۷۷ صفحه ۲) اسلام میں خلع کا قانون ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ مرد جب چاہتا ہے اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے لیکن عورت اگر چاہے تو خلع نہیں کر اسکتی۔ہم نے اس قانون کو اپنی جماعت میں جاری کیا ہے۔لیکن ہمارے اندر اتنی طاقت نہیں کہ ہم اس قانون کو سارے ملک میں جاری