فرموداتِ مصلح موعود — Page 241
۲۴۱ طلاق ہیں کہ گویا اس عورت کو سوٹے لگ رہے ہیں۔الفضل ۲۱ جنوری ۱۹۳۸ء۔جلد ۲۶ نمبر ۱۷ صفحہ ۷ ) عام طور پر اس زمانہ کے علماء یہ سمجھتے ہیں کہ جس نے تین دفعہ طلاق کہہ دیا اس کی طلاق بائن ہو جاتی ہے یعنی اس کی بیوی اس سے دوبارہ اس وقت تک شادی نہیں کر سکتی جب تک کسی اور سے نکاح نہ کرے مگر یہ غلط ہے کیونکہ قرآن کریم میں صاف فرمایا گیا ہے ”الطلاق مرتن“ یعنی وہ طلاق جو بائن نہیں وہ دو دفعہ ہوسکتی ہے اس طور پر کہ پہلے مرد طلاق دے پھر یا طلاق واپس لے لے اور رجوع کرے یا عدت گزرنے دے اور نکاح کرے، پھر ان بن کی صورت میں دوبارہ طلاق دے۔پس ایسی طلاق کا دودفعہ ہونا تو قطعی طور ثابت ہے۔پس ایک ہی دفعہ تین یا تین سے زیادہ بار طلاق کہہ دینے کو بائن قرار دینا قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے۔طلاق وہی بائن ہوتی ہے کہ تین بار مذکورہ بالا طریق کے مطابق طلاق دے اور تین عدتیں گزر جائیں۔اس صورت میں نکاح جائز نہیں۔جب تک کہ وہ عورت کسی اور سے دوبارہ نکاح نہ کرے اور اس سے بھی اس کو طلاق نہ مل جائے لیکن ہمارے ملک میں یہ طلاق مذاق ہو گئی ہے اور اس کا علاج حلالہ جیسی گندی رسم سے نکالا گیا ہے۔( تفسیر صغیر زیر آیت سورہ بقرہ نمبر ۲۳۰۔ایڈیشن ششم صفحه ۵۶،۵۵) سوال :۔ایک شخص نے اپنی عورت کو طلاق دے دی اور کا غذ بھی لکھ دیا۔اس کے بعد پھر اس شخص نے اس عورت کو اپنی بیوی بنالیا ( رجوع کرلیا ) آیا یہ جائز ہے؟ جواب :۔ایسے آدمی کے لئے عورت حلال ہے اور اس کو آئندہ ایسی حرکت سے پر ہیز رکھنا چاہئے۔الفضل ۱۸/ مارچ ۱۹۱۶ء۔جلد ۳۔نمبر ۹۸ صفحه ۱۵) سوال :۔ایک صاحب نے اپنی بیوی کو لکھا۔اگر میں تمہیں اس مکان پر بلاؤں یا تم خود آؤ تو تم پر طلاق۔اب وہ اپنی بیوی کو اس مکان پر بلانا چاہتے ہیں؟ جواب :۔اس مکان میں آجانے پر ایک طلاق واقع ہوگا جس سے اُسی وقت بلا نکاح رجوع ہوسکتا