فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 242

۲۴۲ طلاق ہے اگر عدت گزر جائے تو پھر بالنکاح رجوع ہوگا۔الفضل ۱۴؍ مارچ ۱۹۱۵ ء - جلد ۲ نمبر ۱۱۳ صفحه ۲) سوال :۔ایک شخص اپنی بیوی کا نام بدلنا چاہتا ہے کیا نکاح دوبارہ کرے؟ جواب :۔نام بدلنے سے نکاح میں فرق نہیں آتا وہ تو دو ہی طرح ٹوٹ سکتا ہے ایک تو کوئی شخص اپنی بیوی کو خود طلاق دیدے یا بیوی خلع کرالے۔دوسرے اس سے کہ مرد کا فر ہو جائے۔الفضل ۲۸ نومبر ۱۹۱۵ء۔جلد ۳ نمبر ۶۵ صفحه۲) سوال :۔نیز آیت تَمَسُّوهُنَّ سے مراد إِذَا نَكَحُتُمُ الْمُؤْمِنتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَالَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا اور آیت اِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ۔میں میں سے مراد کیا ہے۔خلوۃ صحیحہ یا مجامعت۔دوسری آیت میں بعض فقہاء مس سے مراد خلوۃ صحیحہ لیتے ہیں؟ جواب :۔دونوں جگہ مجامعت مراد لینی چاہئے سوائے اس کے اس کے خلاف کوئی حدیث ہو۔اور اسے طلاق بائن ہی سمجھنی چاہئے کیونکہ عدت کا نہ ہونا بتاتا ہے کہ دوسرے ہی دن بلکہ اُسی وقت نکاح ہو سکتا ہے۔( حضور نے یہ جواب خود تحریر فرمایا۔یہ تحریر جٹ فتاوی نمبر ۲ دارالافتاء، فتوی نمبر۹/۲۷/۵/۵۲۔صفحہ ۷ پر محفوظ ہے)