فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 239

۲۳۹ طلاق اس فتوی کی تشریح مفتی صاحب سلسلہ عالیہ نے یہ کی تھی کہ اس فتوی کا نفاذ عدالت یا قضاء کے ذریعہ سے ہونا چاہئے۔پہلی دوصورتوں میں جب تک عدالت یا قاضی خاوند سے اس کی بیوی کی شکایات کے متعلق پوچھ کر فیصلہ نہ کرے طلاق واقع نہیں ہوتی اور عورت کو نکاح ثانی کا حق حاصل نہیں۔اس بارہ میں ایک دوست نے حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ سے دریافت کیا کہ کیا حضور سے فتویٰ لینے کے بعد بھی اس کا نفاذ قضاء کے ذریعہ سے ہی ہوسکتا ہے اور قضاء کے لئے خاوند سے دریافت کرنا ضروری ہے یا عورت حضور سے فتویٰ لینے کے بعد نکاح ثانی کرنے کی مجاز ہے؟ اس پر حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے کچھ فرمایا :۔اگر تنازعہ مابین احمدیان ہو تو ضروری ہے کہ قضاء فیصلہ کرے گو بقیہ حصہ سے ہی متفق نہیں۔پوچھنے کے صرف یہ معنے ہیں کہ وہ اسے عورت کے الزام کی تردید کا موقع دے ورنہ اس الزام کی تصدیق کے بعد کسی اور تفتیش کی قاضی کو اجازت نہیں۔(الفضل ۱۱ را کتوبر ۱۹۳۸ء صفحه ۴ ) ایک ساتھ تین طلاقیں یا زائد دی گئیں، ان کاحکم ہمارے ملک میں عام رواج ہے کہ معمولی سے جھگڑے پر وہ اپنی بیوی کو کہہ دیتے ہیں تمہیں تین طلاق تمہیں تین ہزار طلاق تمہیں تین کروڑ طلاق تمہیں تین ارب طلاق۔یہی رواج حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی عربوں میں ہو گیا۔اب مُلاں کیا کہتا ہے کہ مرد کے تین طلاق کہنے پر تین طلاق واقع ہو جاتی ہیں۔حالانکہ اسلام نے اس بیوقوفی کی اجازت نہیں دی۔بلکہ اس طریق کو نا جائز قرار دیا ہے۔اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ جس طہر میں خاوند بیوی کے پاس نہ گیا ہو اس طہر میں طلاق دی جائے۔اگر سیہ امر ثابت ہو جائے کہ اس طہر میں وہ اپنی بیوی کے پاس گیا تھا تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔پھر آج کل کا ملاں کہتا ہے کہ تین دفعہ یکدم طلاق دینے کے بعد عورت سے دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔حالانکہ اگر ایک عورت کو دس ہزار دفعہ بھی یکدم طلاق دے دی جائے تو وہ ایک ہی طلاق شمار کی