فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 238

۲۳۸ طلاق دوئم۔اگر میاں غیر احمدی ہے تو پھر برادری کے لوگوں یا دوسرے لوگوں کو بیچ میں ڈال کر علیحدہ کرالیں۔الفضل ۱۲ مئی ۱۹۲۱ء - جلد ۸ - نمبر ۸۵ صفحه ۷ ) طلاق واقع هونے کاعرصه ہمارے نزدیک شریعت کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی عورت سے کہہ دے کہ میں تیرے پاس نہیں آؤں گا ( یعنی میاں بیوی کے تعلقات منقطع کر دے) تو چار ماہ کے بعد اور زبان سے نہ کہے مگر سلوک ایسا کرے تو ایک سال کے بعد اور مفقودالخبر ہو تو تین سال کے بعد عورت پر طلاق واقع ہو جاتی ہے اور شرعی طور پر وہ دوسری جگہ نکاح کرنے کا حق رکھتی ہے۔الفضل ۶ جون ۱۹۳۳ء۔جلد ۲۰ نمبر ۴۵ صفحه ۷ ) طلاق کے متعلق حضرت خليفة المسيح الثاني کے ایک فتویٰ کی تشریح اخبار الفضل مجریہ ۶ راگست ۱۹۳۸ء میں طلاق کے متعلق چند فتاوی کی تشریح مولوی شریف احمد صاحب بنگوی کی طرف سے کی گئی تھی۔اس میں ایک فتویٰ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ درج تھا کہ :۔”ہمارے نزدیک شریعت کا فیصلہ ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی عورت سے کہہ دے کہ میں تیرے پاس نہ آؤں گا ( یعنی میاں بیوی کے تعلقات منقطع کر دے) تو چار ماہ کے بعد اور زبان سے نہ کہے مگر سلوک ایسا کرے تو ایک سال کے بعد اور مفقود الخبر ہو تو تین سال کے بعد عورت پر طلاق واقع ہو جاتی ہے اور شرعی طور پر وہ دوسری جگہ نکاح کرنے کا حق رکھتی ہے۔“