فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 237

۲۳۷ طلاق طلاق اسی طرح طلاق ہے۔ایک آدمی ایک عورت کو دس پندرہ سال رکھتا ہے جب اس سے فائدہ اُٹھا لیتا ہے اور اس کی جوانی ڈھل جاتی ہے تو کوئی وجہ نہیں ہوتی جو جائز ہو کہ وہ طلاق دے دیتا ہے اور اس وقت دیتا ہے جبکہ وہ نکاح نہیں کر سکتی اور اس کو تباہ کر دیتا ہے۔حالانکہ قرآن کریم کا حکم وابعثوا حكمًا من اهله وحكمًا من اهلها (النساء : ٣٦) کہ طرفین کی طرف سے حج مقرر ہونے چاہئیں، جو فیصلہ کریں۔اگر کوئی شخص ایسا نہیں کرتا تو وہ اسلام کو بدنام کرتا ہے۔پس عورتوں سے عدل نہ کرنے والے مجرم ہیں اور ان کے نکاحوں میں شامل ہونے والے بھی مجرم۔کیونکہ وہ اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ایسے شخصوں کی یہاں اطلاع دی جاوے ہم فیصلہ کریں گے پھر ان سے قطع تعلق کیا جاوے۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء۔صفحہ ۳۱ ۳۲) معلّقه بیوی کب سے مطلقه سمجھی جائے گی سوال :۔جو شخص اپنی عورت کو نہ گھر میں رکھے اور نہ خرچ دے کیا اس عورت کو مطلقہ سمجھا جائے؟ جواب :۔فرمایا۔جو شخص اپنی عورت کو گھر میں نہیں رکھتا اور ایک سال تک خرچ نہیں دیتا میرے نزدیک ایک سال کے بعد اس کو طلاق ہو جاتی ہے۔پہلے فقہاء میں سے بعض نے چار سال کا فتویٰ دیا ہے۔باقی اب قانون کو دیکھنا چاہئے۔مگر میرے نزدیک یہ طلاق جو ہے ایک قاضی کے ذریعہ ہوتی ہے۔اب اس زمانہ میں گورنمنٹ غیر مذہب کی ہے اگر اس کا قانون اجازت نہ دے تو دو صورتیں ہیں۔اول اگر میاں بیوی احمدی ہیں تو آسان ہے احمدی قاضی کے ذریعہ طلاق حاصل کریں۔