فرموداتِ مصلح موعود — Page 217
۲۱۷ نکاح ہے۔اس طریق نے مسلمانوں کی جائیدادوں کو تباہ کر دیا اور کہتے ہیں کہ ناک نہیں رہتی۔لوگ پوچھتے ہیں لڑکی کیا لائی اور اسی طرح لڑکے والوں کی طرف سے کچھ نہ ہو تو لڑکی والے کہتے ہیں ہماری ناک کٹتی ہے چونکہ اس طریق سے تباہی آتی ہے اس سے جماعت کو بچنا چاہئے۔اور بجائے بڑے جہیزوں والی لڑکی اور بڑے زیور لانے والوں لڑکوں کے دیکھنا چاہئے کہ لڑکی جو گھر آئی ہے وہ مسلمان ہے اور لڑکا مسلمان ہے ورنہ بڑے بڑے زیور تباہی اور بربادی کا باعث ہو جاتے ہیں اور اس سے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں اور دین بھی ضائع ہو جاتا ہے اور لوگ سود میں مبتلا ہوکر جائیدادوں کو کھو دیتے ہیں اور اس کی ایک جڑ ہے وہ یہ کہ لوگوں میں رواج ہے کہ جہیز وغیرہ دکھاتے ہیں اس رسم کو چھوڑ نا چاہئے۔الفضل ۱۷ فروری ۱۹۲۱ء صفحہ ۶ - خطبات محمود جلد ۳ نمبر ۸۵ صفحه ۸۵) جهیز کی نمائش لڑکیاں جب اپنی سہیلیوں کے جہیز وغیرہ کو دیکھتی ہیں تو پھر وہ اپنے والدین سے ایسی ہی اشیاء لینا چاہتی ہیں اور اس طرح کی نمائش گویا جذبات کو صدمہ پہنچانے والی چیزیں بن جاتی ہیں جو کچھ بھی دیا جائے بکسوں میں بند کر کے دیا جائے۔( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ صفحه ۲۴) لوگوں میں رواج ہے کہ جہیز وغیرہ دکھاتے ہیں۔اس رسم کو چھوڑ نا چاہئے۔جب لوگ دکھاتے ہیں تو دوسرے پوچھتے ہیں۔جب دکھانے کی رسم بند ہوگی تو لوگ پوچھنے سے بھی ہٹ جائیں گے۔ہمیشہ اس بات پر جانب ینکی نظر ہونی چاہئے کہ ہمارے دین پر ، ہمارے اخلاق پر اس معاملہ کا کیا اثر پڑے گا۔الفضل ۷ار فروری ۱۹۲۱ء) مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں نے اگر بعض رسمیں مٹائی ہیں تو دوسری شکل میں بعض اختیار بھی کر لی ہیں۔نکاحوں کے موقع پر پہلے تو گھروں میں فیصلہ کر لیا جاتا ہے کہ اتنے