فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 210

۲۱۰ نکاح کو شادی کا ضروری جزو قرار دیا ہے۔اسے اسلامی اصطلاح میں مہر کہتے ہیں۔اس کی غرض یہ ہے کہ عورت کی ایک علیحدہ جائیداد بھی رہے تا کہ وہ اپنی حیثیت کو قائم رکھ سکے اور اپنے طور پر صدقہ دے سکے یا صلہ رحمی کر سکے۔گویا مہر کے ذریعہ سے پہلے دن سے ہی مرد سے یہ اقرار کرالیا جاتا ہے کہ عورت اس امر کی حقدار ہے کہ اپنی الگ جائیداد بنائے اور خاوند کو اس کے مال پر کوئی تصرف نہیں ہوگا۔پھر عورت کا یہ حق مقرر کیا ہے کہ خاوند عورت کو بلا کسی کھلی کھلی بدی کے سزا نہیں دے سکتا اور اگر سزا دینی ہو تو اس کے لئے پہلے ضروری ہوگا کہ محلہ کے چار واقف مردو عورت کو گواہ بنا کر ان سے شہادت لے کہ عورت واقعی میں خلاف اخلاق افعال کی مرتکب ہوئی ہے۔اس صورت میں بے شک سزا دے سکتا ہے مگر وہ سزا تدریجی ہوگی۔چنانچہ فرمایا: - والتـي تـخــافـون الآيــه (سوره نساء : ۳۵، ۳۶) یعنی پہلے وعظ۔اگر وہ اس سے متاثر نہ ہو تو کچھ عرصہ کے لئے اس سے علیحدہ دوسرے کمرے میں سونا۔اگر اس کا اثر بھی عورت پر نہ ہو تو گواہوں کی گواہی کے بعد بدنی وجہ سے سزا کا دینا جس کے لئے شرط ہے کہ ہڈی پر چوٹ نہ لگے اور نہ اس مارکا نشان پڑے۔اور یہ بھی شرط ہے کہ یہ سزا صرف فحش کی وجہ سے دی جاتی ہے نہ کہ گھر کے کام وغیرہ کے نقصان کی سے قطع تعلق کی صورت میں حکم ہے کہ وہ چار ماہ سے زیادہ کا نہیں ہوسکتا۔اگر چار ماہ سے زیادہ کوئی خاوند اپنی بیوی سے الگ رہے تو اسے قانون مجبور کرے گا کہ عورت کے حقوق ادا کرے اور خرچ کی ادائیگی سے تو وہ ایک دن کے لئے بھی انکار نہیں کر سکتا۔مرد پر فرض ہے کہ عورت کے کھانے پہننے اور مکان کی ضروریات کو مہیا کرے خواہ عورت مالدار اور مرد غریب ہی کیوں نہ ہو۔انوار العلوم جلد ۸ ، احمدیت یعنی حقیقی اسلام - صفحه ۲۷۲) مهرمعاف کرانا یوں تو عورت اپنے خاوند کو بھی مہر کا روپیہ دے سکتی ہے لیکن یہ نہیں کہ خاوند مہر ادا کئے بغیر ہی لینے کا اقرار کرا لے۔اس طرح صورت بجھتی ہے مہر پہلے کون سا مجھے ملا ہوا ہے صرف زبانی بات ہے اس کا