فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 207

۲۰۷ نکاح معرفت کل زرمہر مبلغ پانچ سوروپیہ اس کو ادا کر دے۔بصورت عدم تحمیل امور عامہ کو مناسب تعزیری کارروائی کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔اس فیصلہ کی ایک نقل امور عامہ کو بھجوائی جائے۔الفضل ۴ رمئی ۱۹۴۰ء - جلد ۲۸ - نمبر ۱ ۰ ۱ صفحه ۳) لوگ مہر یا تو 32 روپے مقرر کرتے ہیں اور اسے مہر شرعی کہا جاتا ہے یا تین من سونا اور اتنے من چاندی اور اتنے گاؤں۔یہ دونوں فضول باتیں ہیں۔مہر طرفین کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہئے۔الفضل ۲ فروری ۱۹۱۵ء - جلد ۲ - نمبر ۹۹ صفحه ۱ ) مهرکی مقدار میں نے مہر کی تعیین چھ ماہ سے ایک سال تک کی آمد کی ہے۔یعنی مجھ سے کوئی مہر کے متعلق مشورہ کرے تو میں یہ مشورہ دیا کرتا ہوں کہ اپنی چھ ماہ کی آمد سے ایک سال تک کی آمد بطور مہر مقرر کر دو اور یہ مشورہ میرا اس امر پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے الوصیت کے قوانین میں دسویں حصہ کی شرط رکھوائی ہے۔گویا اسے بڑی قربانی قرار دیا ہے۔اس بناء پر میرا خیال ہے کہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ باقی اخراجات کو پورا کرتے ہوئے مخصوص کر دینا معمولی قربانی نہیں بلکہ ایسی بڑی قربانی ہے کہ جس کے بدلے میں ایسے شخص کو جنت کا وعدہ دیا گیا ہے۔اس حساب سے ایک سال کی آمد جو گو یا متواتر دس سال تک کی آمد کا دسواں حصہ ہوتا ہے۔بیوی کے مہر میں مقر رکر دینا۔مہر کی اغراض کو پورا کرنے کے لئے بہت کافی ہے بلکہ میرے نزدیک انتہائی حد ہے۔الفضل ۱۲؍ دسمبر ۱۹۴۰ء جلد ۲۸ نمبر ۲۸۲ صفحه ۱) مهر طرفین کی حیثیت کے مطابق ھونا چاھئے اسی طرح مہر ہے۔لوگ اب اپنی حیثیت سے بہت بڑھ چڑھ کر مہر باندھتے ہیں بلکہ ہمارے ملک