فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 203

٢٠٣ نکاح کا چونکہ اور کوئی مرد ولی نہیں تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لڑکے سے دریافت کرنا ضروری سمجھا۔( خطبات محمود جلد ۳، صفحه ۴۷۵) ولایت نکاح ولایت کا پہلا حق باپ کو ہے اگر وہ نہ ہو تو بھائی ولی ہوتے ہیں اگر وہ بھی نہ ہوں تو پھر عورت کے بھائی ولی ہوتے ہیں اور اگر کوئی مرد ولی نہ ہو تو حکومت ولی ہوتی ہے خواہ حکومت روحانی ہو یا دنیاوی۔البتہ حکومت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ لڑکی کی والدہ سے مشورہ کرے۔ہمارے پاس اگر ایسے رشتے آئیں تو ہم لڑکی کی ماں سے مشورہ کرنے کے بعد ہی رشتہ کرتے ہیں اور بسا اوقات اس کی مرضی ہی مقدم رکھی جاتی ہے۔مجھے تو یاد نہیں کہ اس قسم کا واقعہ ہوا ہوا گر ہوا ہو تو اس قدر کم کہ وہ اب یا د بھی نہیں رہا۔بالعموم ماں کی مرضی دیکھی جاتی ہے۔البتہ وکالت اور ولایت کوئی عورت نہیں کر سکتی تو ایسے حالات میں کہ لڑکی کا کوئی ولی نہ ہو خلیفہ یا اس کا کوئی نمائندہ اس کا ولی ہوگا۔(خطبات محمود جلد ۳، صفحہ ۴۷۷) ولایت نکاحوں کے بارے میں ہمارے ملک میں ایک غلطی ہو رہی ہے کہ جہاں مردولی نہیں ہوتے وہاں عورتوں کو ٹھہرا دیا جاتا ہے۔چنانچہ یہی فارم جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے اس میں بھی اسی قسم کی غلطی کی گئی ہے یعنی لڑکی کی والدہ ولی ہے تو یہ صرف ایک اصطلاحی غلطی ہے کیونکہ لڑکی کی والدہ نے مجھ سے دریافت کر لیا ہے اور میرے مشورہ سے اس نے یہ کام کیا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ میرے کہنے پر اس نے یہ کیا ہے۔صرف اصطلاح کے طور پر والدہ ولی بنی ہے مگر بہر حال ہماری شریعت میں