فرموداتِ مصلح موعود — Page 164
۱۶۴ روزه جواب :۔فرمایا : - حضرت صاحب خوب روزہ رکھتے تھے مگر چونکہ آخر میں کمز ور زیادہ ہو گئے تھے اور مرض میں بھی زیادتی تھی اس لئے تین سال کے روزے نہیں رکھے۔(الفضل ۱۲ جون ۱۹۲۲ء۔نمبر ۹۷) مسافر اور مریض روزہ نہ رکھیں مسافر اور بیمار کے لئے روزہ رکھنا ایسا ہی بے ہودہ ہے جیسا حائضہ کے لئے روزہ رکھنا۔اورکون نہیں جانتا کہ حائضہ کا روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں بلکہ بے وقوفی اور جہالت ہے اور بعض تو شائد اس بات پر ناراض ہی ہو جائیں کہ دین کا استخفاف کیا جا رہا ہے۔بعینہ یہی حال بیمار اور مسافر کا ہے۔اس کے لئے بھی روزہ رکھنا نیکی نہیں۔اسی طرح بوڑھا جس کے قومی مضمحل ہو چکے ہیں اور روزہ اسے زندگی کے باقی اشغال سے محروم کر دیتا ہے اس کے لئے بھی روزہ رکھنا نیکی نہیں۔پھر وہ بچہ جس کے قومی نشو ونما پا رہے ہیں اور آئندہ پچاس ساٹھ سال کے لئے طاقت کا ذخیرہ جمع کر رہے ہیں اس کے لئے بھی روزہ رکھنا نیکی نہیں ہو سکتا۔مگر جس میں طاقت ہے اور جو رمضان کا مخاطب ہے وہ اگر روزہ نہیں رکھتا تو گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔(الفضل ۲ فروری ۱۹۳۳ء) سوال : محمد الدین صاحب دیہاتی چٹھی رساں نے روزہ کے متعلق پوچھا کہ میں بوجہ سفر روزہ نہیں رکھ سکتا۔جواب :۔فرمایا :۔جن کی ملازمت سفر کی ہو ان کو روز ہ معاف نہیں ہوسکتا۔اگر بیمار ہو جائے تو اور بات ہے۔(الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء نمبر ۱۰) سوال :۔ایک صاحب نے لکھا کہ مجھے صبح سات بجے سے شام کے چار بجے تک پہاڑوں پر دورہ کرنا پڑتا ہے اور بہت تکلیف ہوتی ہے اس لئے ماہ رمضان میں کوئی روزہ نہیں رکھ سکتا۔دین