فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 160

۱۶۰ روزه کر کھا پی لینے سے روزہ نہیں ٹو تھا۔سرمہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ہے۔دن کولگا نا مکروہ ہے۔۴۔جماع ( خواہ بغیر انزال ہو ) کلی کرتے ہوئے پانی اندر چلے جانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔عمداً جماع سے ۶۰ روزے یا ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ضروری ہے۔جسے غروب آفتاب کے متعلق غلطی کا علم بعد میں معلوم ہو وہ اس روزہ کو پھر رکھے۔۵- بیهوشی، جمل، ارضاع ( دودھ پلانا ) جیل خانہ عذر ایسے ہیں کہ بعد میں لازم ہے۔حاملہ مرضعہ کو وقت نہ ملے تو فدیہ طعام مسکین دے۔مسافر دوسرے وقت میں روزہ رکھے۔سات کوس سفر ہے۔مگر جس کا فرض منصبی یا پیشہ سفر ہو وہ مسافر نہیں۔مریض صحت یاب ہوکر روزہ رکھے۔مرض کی تحدید نہیں۔دائم المریض شیخ فانی ہر روزہ پر ایک مسکین کو دونوں وقت کھانا کھلائے۔کھانا اپنی حیثیت کو مد نظر رکھ کر مہینے کے خرچ کا اوسط جو ایک دن پر پڑے۔جو کام بطور پیشہ کئے جاتے ہیں ان کے عذر سے روزہ چھوڑنے کا حکم نہیں۔عورت بحالت حیض روزہ نہ رکھے بعد میں قضا کرے۔استحاضہ والی روزہ رکھے۔۶۔روزہ کھولنے کے وقت یہ دعا پڑھی جاوے۔اللهم لك صمت وعلى رزقك افطرت ذهب الظمأ وابتلت العروق ے۔روزہ طاق کھجور سے یا پانی سے کھولنا مستحب ہے۔( الفضل ۲۸ / جولائی ۱۹۱۴ء۔نمبر ۱۸) کن لوگوں پر روزہ رکھنا فرض هے ان ایام میں ہم پر بعض ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں یعنی پو پھٹنے سے لے کر تمام وہ عاقل بالغ جو بیمار نہ ہوں، بچے کمزور اور بوڑھے نہ ہوں یا پھر حائضہ ، حاملہ یا دودھ پلانے والی عورتیں جو گو بیمار نہ ہوں لیکن روزہ کو برداشت نہ کر سکتی ہوں عام طور پر اکثر عورتوں کو حمل یا دودھ پلانے کی حالت میں