فرموداتِ مصلح موعود — Page 161
۱۶۱ روزه غیر معمولی تکلیف کا امکان ہوتا ہے یا پھر مسافر کے سوا باقی سب کے لئے غروب آفتاب تک روزہ رکھنا فرض ہے۔(الفضل ۳۱ - ۳۰ء۔نمبر ۸۸) مریض روزه نه رکهے - فدیه روزه رمضان کے لئے یہ شرط ہے کہ اگر انسان مریض ہو خواہ وہ مرض لاحق ہوا ہو یا ایسی حالت میں ہو جس میں روزہ رکھنا یقیناً مریض بنا دے گا۔جیسے حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت یا ایسا بوڑھا شخص جس کے قومی میں انحطاط شروع ہو چکا ہے یا پھر اتنا چھوٹا بچہ جس کے قومی نشو ونما پا رہے ہیں تو اسے روزہ نہیں رکھنا چاہئے اور ایسے شخص کو اگر آسودگی حاصل ہو تو ایک آدمی کا کھانا کسی کو دے دینا چاہئے اور اگر یہ طاقت نہ ہو تو نہ سہی ایسے شخص کی نیت ہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے روزہ کے برابر ہے۔اگر روک عارضی ہو اور بعد میں وہ دور ہو جائے تو خواہ فدیہ دیا ہو یا نہ دیا ہوروزہ بہر حال رکھنا ہوگا۔فدیہ دے دینے سے روزہ اپنی ذات میں ساقط نہیں ہوتا بلکہ یہ تو محض اس بات کا بدلہ ہے کہ ان دنوں میں باقی مسلمان کے ساتھ مل کر اس عبادت کو ادانہیں کرسکتا۔یا اس بات کا شکرانہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عبادت کرنے کی توفیق بخشی ہے۔کیونکہ روزہ رکھ کر بھی فدیہ دینا مسنون ہے اور نہ رکھ کر بھی۔روزہ رکھ کر جوفد یہ دیتا ہے وہ زیادہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے کیونکہ روزہ رکھنے کی توفیق پانے پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور جو روزہ رکھنے سے معذور ہو وہ اپنے اس عذر کی وجہ سے دیتا ہے آگے یہ عذر دو قسم کے ہوتے ہیں عارضی اور مستقل۔ان دونوں حالتوں میں فدیہ دینا بھی چاہئے۔پھر جب عذر دور ہو جائے تو روزہ بھی رکھنا چاہئے۔غرضیکہ خواہ کوئی فدیہ بھی دیدے لیکن سال دو سال، تین سال بعد جب بھی صحت اجازت دے اسے پھر روزہ رکھنا ہوگا۔سوائے اس صورت کے کہ پہلے مرض عارضی تھا اور صحت ہونے کے بعد وہ ارادہ ہی کرتا رہا کہ آج رکھتا ہوں، کل رکھتا ہوں کہ اس دوران