فرموداتِ مصلح موعود — Page 157
۱۵۷ روزه ضرورت ہوتی ہے اور زمیندار کہہ دیتا ہے کہ کلو را فارم کی ضرورت نہیں۔وجہ یہ کہ دماغی کام کرنے والے کی جس تیز ہے اور اس کی کمزور۔پس دماغی کام کرنے والے جو ہیں وہ اس محنت کو برداشت نہیں کر سکتے۔اس لئے دھوپ سے بچ کر کام کرتے ہیں اور زمینداروں کو جسمانی کام کرنا پڑتا ہے اس لئے اگر وہ روزہ رکھیں تو ان کی سختی پسند حالت کے باعث ان کے لئے کوئی تکلیف نہیں ہو سکتی۔پڑھنے والا پڑھ کر کمزور ہو گیا ہے اور زمیندار کو مضبوط بنایا گیا ہے اس لئے اس قدرت کے سامان کے ماتحت زمینداروں کے لئے روزہ کچھ مشکل نہیں۔الفضل ۱۷ رجون ۱۹۲۰ء) سوال پیش کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے روزہ کے متعلق یہ فتویٰ دیا ہے کہ مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا۔ادھر الفضل میں میرا اعلان شائع کیا گیا ہے کہ احمدی احباب جو جلسہ سالانہ پر آئیں وہ یہاں آکر روزے رکھ سکتے ہیں مگر جو نہ رکھیں اور بعد میں رکھیں ان پر کوئی اعتراض نہیں۔اس کے متعلق اول تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میرا کوئی فتوی الفضل میں شائع نہیں ہوا ہاں ایک فتویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا میری روایت سے چھپا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ زمانہ خلافت کے پہلے ایام میں میں سفر میں روزہ رکھنے سے منع کیا کرتا تھا کیونکہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا تھا کہ آپ مسافر کو روزہ رکھنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ مرزا یعقوب بیگ صاحب رمضان میں آئے اور انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن عصر کے وقت جبکہ وہ آئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کہہ کر روزہ کھلا دیا کہ سفر میں روزہ رکھنا نا جائز ہے۔اس پر اتنی لمبی بحث اور گفتگو ہوئی کہ حضرت خلیفہ اول نے سمجھا کہ شائد کسی کو ٹھوکر لگ جائے اس لئے آپ ابن عربی کا ایک حوالہ دوسرے دن تلاش کر کے لائے کہ وہ بھی یہی کہتے ہیں۔اس واقعہ کا مجھ پر یہ اثر تھا کہ میں سفر میں روزہ رکھنے سے روکتا تھا۔اتفاق ایسا ہوا کہ ایک رمضان