فرموداتِ مصلح موعود — Page 158
۱۵۸ روزه مولوی عبد اللہ صاحب سنوری یہاں رمضان گزارنے کے لئے آئے تو انہوں نے کہا میں نے سنا ہے آپ باہر سے یہاں آنے والوں کو روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں مگر میری روایت ہے کہ یہاں ایک صاحب آئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ مجھے یہاں ٹھہرنا ہے اس دوران میں روزے رکھوں یا نہ رکھوں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہاں آپ روزے رکھ سکتے ہیں کیونکہ قادیان احمدیوں کے لئے وطن ثانی ہے۔گومولوی عبداللہ صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے مقرب تھے مگر میں نے صرف ان کی روایت کو قبول نہ کیا اور لوگوں کی اس بارے میں شہادت کی تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان کی رہائش کے ایام میں روزہ رکھنے کی اجازت دیتے تھے۔البتہ آنے اور جانے کے دن روزہ رکھنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔اس وجہ سے مجھے پہلا خیال بدلنا پڑا۔اسلامی روزه الفضل ۴ جنوری ۱۹۳۴ء۔نمبر ۸۰) وہ علاقے جہاں دن رات ۲۴ گھنٹے سے لمبے ھیں وہ وقت کا اندازہ کریں اسلامی روزہ بھی دوسرے لوگوں کے روزوں سے مختلف ہے۔ہندوا اپنے روزوں میں کئی چیزیں کھا بھی لیتے ہیں پھر بھی ان کا روزہ قائم رہتا ہے۔عیسائیوں کے روزے بھی اسی قسم کے ہیں۔کسی روزے میں گوشت نہیں کھانا کسی میں خمیری روٹی نہیں کھانی۔اسلامی روزہ نماز کی طرح انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔چنانچہ تمام مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ وہ سال کے مختلف اوقات میں نفلی روزے رکھا کریں مگر رمضان کے مہینہ میں دنیا کے تمام مسلمانوں کو خواہ وہ کسی گوشہ میں رہتے ہوں ایک وقت میں روزے رکھنے کا حکم ہے۔وہ صبح پو پھٹنے سے پہلے کھانا کھاتے ہیں اور پھر سارا دن سورج کے ڈوبنے تک نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔سورج ڈوبنے کے بعد صبح تک ان کو کھانے پینے کی اجازت ہوتی ہے۔ان سے امید کی جاتی ہے