فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 151

۱۵۱ زكوة آٹھویں مدابن السبیل کی ہے۔ابن السبیل کے معنے مسافر کے ہیں۔یعنی مسافروں کی امداد کرنا حکومت کا فرض ہے۔یعنی سڑکوں کا بنانا اور ان کی مرمت وغیرہ کا خیال رکھنا، مسافر خانے اور ڈاک بنگلے بنانا اپنے ملک میں سفر کرنے کے لئے معلومات اور سہولتیں بہم پہنچانا۔اس کے متعلق لٹریچر شائع کرنا تا کہ غیر ملکوں کے لوگ آئیں اور اسلامی حکومت کو دیکھیں اور مسلمان غیر مسلمانوں سے واقف ہوں اور غیر مسلمان مسلمانوں سے واقف ہوں۔اور سیاحوں کے آنے کی وجہ سے ملک کی دولت بڑھے اور غیر ملکوں کے ساتھ تعلقات قائم ہونے کی وجہ سے اسلامی ملک کی ساکھ دوسرے ممالک میں قائم ہو اور بین الاقوامی تعلقات بہتر ہوں۔گویا یہ سب اغراض ابن السبیل کی مد میں آجاتی ہیں۔( تفسیر کبیر۔جلد دہم ، سورۃ الکفرون صفحه ۴۲۵ تا ۴۲۷) فرمایا:۔تعجب ہے کہ ہماری انجمن میں زکوۃ کا بھی ایک بجٹ تیار ہوتا ہے۔زکوۃ کا مال جمع کرنے کے لئے نہیں وہ تو خرچ کرنے کے لئے ہے اور اس کے مصارف اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں بتا دیئے ہیں۔(الفضل ۲۲ / جون ۱۹۱۴ء۔جلد ۲۔نمبر ۳) دوسرا حکم زکوۃ کا ہے اگر کسی کے پاس 52 تولے چاندی یا 40 روپے سال بھر جمع رہیں تو ان پر ایک روپیہ زکوۃ دے جو مسکینوں، یتیموں اور غریبوں کے لئے ضروری ہے اور جہاں نماز کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں زکوۃ کے حکم سے بندوں کا حق ادا کرنے کی تاکید ہے۔خدا تعالیٰ خود بھی براہ راست اپنے بندوں کو سب کچھ دے سکتا ہے لیکن اس نے آپ دینے کی بجائے بندوں کے ذریعہ دینا چاہا ہے تا کہ دینے والے بھی ثواب اور اجر کے مستحق ہوں۔الاز ہار لذوات الخمار صفحه ۲۴، ۲۶، ۲۷) اگر کسی کے پاس 52 تولے چاندی یا ۴۰ روپے سال بھر تک جمع رہیں تو ان پر ایک روپیہ زکوۃ دے۔☆☆☆ الفضل ۲۷ /اکتوبر ۱۹۱۷ء۔جلد ۵ - نمبر ۳۴)