فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 133

۱۳۳ نماز جنازه سوال :۔قبروں پر قبہ بنانا کیوں جائز نہیں؟ جواب :۔انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے کہ جن وجودوں کے ساتھ اسے محبت ہوتی ہے۔اُن کے مرنے کے بعد بھی جہاں تک ہو سکے ان کا احترام کرنا چاہتا ہے۔یوں تو جب کوئی شخص مرجاتا ہے اس کی لاش اگر کتے بھی کھا جائیں تو اسے کیا تکلیف ہو گی لیکن اس سے محبت رکھنے والے جو زندہ انسان ہوں ان کی فطرت گوارا نہیں کرتی کہ لاش کی یہ حالت ہو۔اس لیے وہ اپنے طور پر اس کا احترام کرتے ہیں مگر یہ کوئی شرعی احترام نہیں ہوتا۔کیونکہ شرعی طور پر احترام جائز نہیں کیونکہ اس سے شرک پھیلتا ہے۔بچوں وغیرہ کی قبر پر کوئی قبہ نہیں بنا تا مگر بزرگوں کی قبر پر قبہ بناتے ہیں کیونکہ ان کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ ان سے کچھ حاصل ہوگا۔الفضل یکم مارچ ۱۹۲۷ء۔جلد ۱۴ نمبر ۶۹) قبر پرستی عورتوں میں بہت سی باتیں ایسی پائی جاتی ہیں جو شرک ہیں۔قبروں پر چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔چراغ جلائے جاتے ہیں۔مثنیں مانی جاتی ہیں یہ سب شرک ہے۔خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کو کھڑا کرنا شرک ہے جو بہت ہی بڑا گناہ ہے اور اس سے خدا کا غضب بھڑک اٹھتا ہے۔دیکھو اگر کوئی اپنے باپ کے سامنے ایک چوہڑے کو اپنا باپ کہے تو اس کے باپ کو کس قدر غصہ آئے گا اور وہ کس قدر ناراض ہو گا۔اسی طرح ایک ادنیٰ مخلوق کو جو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کیڑے کی حیثیت بھی نہیں رکھتی اپنا حاجت روا سمجھنا خدا تعالیٰ کی بہت بڑی ناراضگی کا موجب ہے۔ایک قبر میں دفن شدہ مردہ جس کی ہڈی بھی گل گئی ہوں جس کے جسم کو کیڑے کھا گئے ہوں اس کو جا کر کہنا کہ تو میری مراد پوری کر کتنی بڑی پاگلا نہ بات ہے خدا تعالیٰ جب زندہ ہے اور مانگنے