فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 127

۱۲۷ نماز جنازه۔میری دادی غیر احمدی ہیں اور احمدی کی بیوی ہیں۔دو تین مرتبہ قادیان بھی اپنے خاوند کے ساتھ گئیں تھیں۔ربوہ بھی ایک دفعہ گئی ہیں اور ہمیشہ وہ قادیان کا نام قادیان شریف لیا کرتی ہیں۔ان کے منہ سے کبھی بھی کسی قسم کی بد کلامی یا نفرت والی بات نہیں سنی۔ان سے حضرت صاحب کی بابت پوچھتے تو ہمیشہ وہ یہی کہتی ہیں کہ وہ بہت چنگے بندے ہیں لوگ جو کچھ کہتے ہیں غلط کہتے ہیں۔ان کی وفات کی صورت میں ان کا جنازہ پڑھا جائے یا نہیں؟ جواب :۔فرمایا۔آپ حالات سے باخبر ہیں۔آپ جنازہ پڑھ سکتے ہیں۔الگ یا خود امامت کرا کے۔دوسرے احمدی جو حالات سے واقف نہیں انہیں اس کے لئے نہ کہیں۔فائل مسائل دینی RP 21253/18۔1۔55-32-A) ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منکر ہوئے اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح موعود علیہ السلام کا مکفر نہیں۔میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جا تا اور کتنے لوگ ہیں جوان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت و ہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔پھر میں کہتا ہوں کہ بچہ تو گنہ گار نہیں ہوتا اس کو جنازہ کی ضرورت ہی کیا ہے۔بچہ کا جنازہ تو دعا ہوتی ہے اس کے پسماندگان کے لئے۔اور اس کے پسماندگان ہمارے نہیں بلکہ غیر احمدی ہوتے ہیں اس لئے بچہ کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔باقی رہا کوئی ایسا شخص جو حضرت صاحب کو تو سچا مانتا ہے لیکن ابھی اس نے بیعت نہیں کی یا احمدیت کے متعلق غور کر رہا ہے اور اسی حالت میں مر گیا ہے اس کو ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی سزا نہ دے