فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 95

۹۵ مقیم مسافر امام کے ساتھ دورکعت پڑھے یاچار سوال :۔اگر مسافر امام کے ساتھ نماز میں اس وقت شامل ہو جبکہ امام پہلی دو رکعتیں پڑھ چکا ہو تو کیا مسافر دو رکعت پڑھ کر امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دے یا چار پڑھے؟ جواب :۔جب مسافر مقیم امام کے ساتھ شامل ہو تو اس کو چاروں رکعتیں ہی پڑھنی چاہئیں۔(الفضل ۲۳ / جنوری ۱۹۲۲ء) نماز وتر ایک نماز وتر کہلاتی ہے۔اس نماز کی بھی مغرب کی طرح تین رکعتیں ہیں۔مگر فرق یہ ہے کہ مغرب کی نماز میں پہلے تشہد کے بعد جو تیسری رکعت پڑھی جاتی ہے اس میں سورہ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کی زائد تلاوت نہیں کی جاتی لیکن وتر کی نماز میں تیسری رکعت میں بھی سورہ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کی چند آیات یا کوئی چھوٹی سورۃ پڑھی جاتی ہے۔(ترمذی جلد اول کتاب الصلواة ابواب الوتر ما جاء ما يقرء في الوتر) دوسرا فرق اس میں یہ ہے کہ نماز وتر کو مغرب کی نماز کے برخلاف دوحصوں میں بھی تقسیم کیا جاسکتا ہے۔یعنی یہ بھی جائز ہے کہ دور کعتیں پڑھ کر تشہد کے بعد سلام پھیر دیا جائے اور پھر ایک رکعت الگ پڑھ کر تشہد کے بعد سلام پھیر دیا جائے۔(نسائی کتاب قيام الليل وتطوع النهار باب كيف الوتر بثلاث و باب كيف الوتر بواحدة) ( تفسیر کبیر ، جلد اول، سورۃ بقرۃ صفحہ ۱۱۳) سوال :۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام وتر دورکعت پڑھ کر سلام پھیر تے تھے یا تین پڑھ کر ؟ جواب :۔فرمایا۔عموماً دو پڑھ کر۔مولوی سید سرورشاہ صاحب نے کہا جس قدر واقف لوگوں سے اور روایتیں سنی ہیں ان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ دو پڑھ کر سلام پھیر تے تھے