فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 86

۸۶ اسلامی عبادات اور مسجد میں پس یہ اعتراض در حقیقت ہم پر نہیں بلکہ دوسرے مذاہب پر پڑتا ہے کیونکہ عیسائیت کے نزدیک بھی گناہ کا دیو روزے کے بغیر نہیں نکلتا اور خود حضرت مسیح روزے رکھتے رہے ہیں اور ہندوؤں میں بھی روزے موجود ہیں۔اگر ایک روزہ بھی ہو۔پھر بھی جس علاقہ میں چھ ماہ کا ایک دن ہے وہاں متواتر چھ ماہ کا روزہ رکھنا پڑے گا۔اگر بارہ روزے رکھنے ہوئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ چھ سال تک متواتر روزے رکھے جائیں۔ہمارے مذہب میں تو اس سوال کا جواب موجود ہے۔ایک صحابی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں جب چھ چھ ماہ کے دن ہوں گے تو اس صورت میں روزہ کس طرح رکھا جائے الله اور نماز کس طرح ادا کی جائے۔آپ ﷺ نے فرمایا اقدروا له قدره (مشكوة ، كتاب الفتن) یعنی ایسی صورت میں ایک اندازہ مقرر کر لیا کرو۔چوبیس گھنٹے کا دن اور رات فرض کر کے اس میں سے اندازہ کے مطابق روزہ رکھ لیا کرو۔اسی طرح نماز کے متعلق بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔یہ اندازہ سورج کے حساب سے نہیں ہوگا۔بلکہ گھنٹوں کے حساب سے ہوگا۔یعنی یہ دیکھ لیا جائے گا کہ وسط دنیا میں نمازوں کے کیا اوقات ہیں ان سے اندازہ لگا کر نماز ادا کر لی جائے گی۔یہ قانون ان ممالک کے لئے ہے جہاں معتاد لیل و نہار کے وقت یعنی چوبیس گھنٹے سے زیادہ کا دن رات ہوتا ہے۔مثلا تین تین ماہ کا دن ہے یا تین تین ماہ کی رات ہے۔باقی رہا یہ جہاں ۲۲ گھنٹے کا دن ہو اور دو گھنٹے کی رات وہاں کیا کیا جائے۔سو وہاں پر ۲۲ گھنٹے کا روزہ رکھنا چاہئے۔یہ آٹھ پہر کا روزہ ہوگا اور یہ کوئی ایسی مشکل بات نہیں ہے۔ہمارے ملک میں ہزاروں لوگ ایسے روزے رکھتے ہیں۔پھر فن لینڈ جیسے ملک میں تو یہ سہولت بھی ہے کہ اگر ۱۸ سال تک ۲۲ گھنٹے کا روازہ رکھنا پڑتا ہے تو اس کے بعد متواتر ۱۸ سال غیر معمولی طور پر چھوٹا یعنی صرف چار گھنٹے کا روزہ رکھنا پڑے گا۔گویا با ئیس گھنٹے کے روزے کی کسر دوسری طرف نکل جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو متواتر ایک مہینہ تک وصال کے روزے بھی رکھا کرتے تھے۔یعنی افطاری کے وقت صرف