فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 77

22 اسلامی عبادات اور مسجد میں کسی دعا کے متعلق سوچے گا بھی اسی زبان میں جو اس کی اپنی ہوگی مثلاً اردو زبان جانے والا جب کسی امر کے متعلق سوچے گا تو وہ اردو میں ہی سوچے گا۔اسی طرح عربی جاننے والا جب کسی امر کے متعلق سوچے گا تو وہ عربی زبان میں سوچے گا۔پس ہماری ضروریات کے متعلق جو خیالات ہمارے دلوں میں آتے ہیں وہ اسی زبان میں آتے ہیں جو ہماری زبان ہوتی ہے اور جس کے ہم ماہر ہوتے ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک اردو جاننے والا انگریزی زبان میں سوچتار ہے اور ایک انگریزی دان فارسی میں سوچتا رہے۔پس چونکہ انسان کو اس کی حاجتوں اور خواہشات مخفی کا علم اس کی اپنی زبان میں ہوتا شخص ہے۔اس لئے وہی اس کی خواہشات کی ادائیگی کے لئے بھی موزوں اور مناسب ہے۔پس اگر کوئی شخص انفرادی طور پر اپنی زبان میں دعائیں مانگتا ہے تو یہ اس کے لئے جائز ہے بلکہ یہی اس کے لئے بہتر ہے۔مگر ایک امام کے لئے ایسا کرنا درست نہیں کیونکہ بسا اوقات وہ ایسی دعا بھی مانگ جاتا ہے جو مقتدیوں کے لئے بار ہوتی ہیں۔اس لئے امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ نماز میں اگر بلند آواز سے دعائیں مانگنا چاہے تو قرآن کریم اور احادیث کی دعائیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الہامی دعائیں مانگے۔کیونکہ ان دعاؤں میں غلطی کا امکان نہیں ہے اور یہ سب دعا ئیں ایسی ہیں جو مقتدیوں کے لئے مسلمہ ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخ دعا مانگ رہا تھا اور وہ کہنا تو یہ چاہتا تھا کہ اے خدا میں گنہگار ہوں تو مجھ پر رحم کر لیکن جوش میں اس کے منہ سے نکل گیا کہ اے خدا تو گنہ گار ہے میں تجھ پر رحم کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا جب وہ شخص یہ دعا مانگ رہا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کی غلطی پر ہنس رہا تھا کہ میرا بندہ سمجھ نہیں سکا کہ وہ کہنا کیا چاہتا تھا اور کیا کہ رہا ہے۔لیکن اگر کوئی امام یہی دعا غلطی سے مانگنا شروع کر دے اور بجائے اے اللہ رحم کر کہے کہ اللہ میں تجھ پر رحم کرتا ہوں کہتا چلا جائے تو مقتدی کیا کہیں گے۔امام بننے کی صورت میں اس کے لئے اپنی زبان میں دعائیں مانگنا جائز نہیں ہے۔امام بننے کی صورت میں ضروری ہے کہ وہ ایسی دعائیں مانگے جو مقتدیوں کے نزدیک مسلمہ ہوں اور مقتدیوں