فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 419

۴۱۹ ضمیمه ان کے بالکل پہلو میں مرحومہ محترمہ کی تدفین عمل میں آئی۔مرحومہ کا دودفعہ جنازہ راولپنڈی میں پڑھا گیا۔ایک دفعہ درویشان قادیان نے پڑھا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی اید اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ یکم دسمبر ۱۹۵۰ء کو بعد نماز جمعہ آپ کا جنازہ غائب کوئی ڈیڑھ ہزار کے مجمع سمیت پڑھا تھا اور بڑی لمبی دعا فرمائی تھی۔اب ربوہ میں تابوت لانے پر قاضی عبدالسلام صاحب کے عرض کرنے پر حضور نے از راہ زرہ نوازی ظہر کی نماز کے بعد مسجد مبارک کے صحن میں جہاں تابوت تھا دوبارہ جنازہ پڑھایا۔اصحاب احمد جلد ششم صفحه ۷۸ جدید ایڈیشن) چور کی سزا قطع ید سوال: - السارق و السارقة فاقطعوا ايديهما(المائدہ:۳۹)۔یہ سز اسخت بتائی جاتی ہے۔جواب :۔یہ سزا ہر چوری کی نہیں بلکہ اس کے لئے شرطیں ہیں۔اوّل۔چوری اہم ہو، دوم۔بلا ضرورت ہو یعنی عادۃ۔طعام کی چوری پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا نہ دی۔اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کے متعلق ہے کہ ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کما نہیں سکتا اور بھوک سے مجبور ہے۔سوم۔تو بہ سے پہلے گرفتار ہو پھر سزا ملے گی۔چہارم۔مال چوری کر چکا ہو۔صرف کوشش سرقہ نہ ہو۔پنجم۔اس کی چوری مشتبہ نہ ہو یعنی اشتراک مال کا مدعی نہ ہو۔جن کے گھر سے چوری کرے وہ اس کے عزیز یا متعلق نہ ہوں جن پر اس کا حق ہو۔( بیت المال کی چوری پر حضرت عمرؓ نے سزا نہ دی )۔مثلاً کسی مذہبی جنون کے ماتحت ہو جیسے بت چرا لینا۔یہ مذہبی دیوانگی کہلائے گا اور حکومت تعزیزی کارروائی کرے گی۔ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائے گی یا جوش انتقام میں چوری کرے۔جیسے جانوروں کی چوری کرتے ہیں یا جبر آچوری کرائی جائے۔ششم۔وہ شخص نابالغ نہ ہو۔ہفتم۔عقل مند ہو۔بے وقوف یا فاتر العقل نہ ہو۔ہشتم۔اس پر اصطلاح چور کا اطلاق ہوسکتا ہو۔(اسلام کا آئین اساسی صفحہ ۱۸)