فرموداتِ مصلح موعود — Page 418
۴۱۸ ضمیمه حالت اضطراری ہوگئی اور ان کے گزارہ کے لئے اور کوئی رستہ کھلا نہ رہا۔پس چونکہ اس حکم کی حکمت بدل گئی تو حکم بھی ساتھ ہی بدل گیا۔لہذا ہمارے نزدیک موجودہ زمانہ میں جبکہ شمس وغیرہ کی آمدنیاں جن سے رسول کریم کے خاندان کے غرباء کی پرورش ہو سکے بند ہوگئیں تو سادات کو زکوۃ میں سے حصہ دینا جائز ہو گیا۔یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جب ہم رسول کریم کا خاندان کہتے ہیں تو بنی ھاشم کے دوسرے لوگ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔امام ابوحنیفہ بھی فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں بنوھاشم کوز کو ۃ دینی جائز ہے کیونکہ شمس غنیمت میں سے جو گزارہ انہیں ملتا تھا وہ اس آمد کے بند ہو جانے سے بند ہو گیا۔(ردالمختار شامی جلد ۱۰۲/۲) اسی طرح امام طحاوی بھی لکھتے ہیں کہ بعض علماء جن میں امام ابوحنیفہ بھی شامل ہیں فرماتے ہیں کہ صدقات جو بنو ھاشم کے لئے حرام کئے گئے تو اس لئے حرام کئے گئے تھے کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے خمس غنیمت میں سے حصہ مقرر کیا تھا جب وہ آمدنیاں بند ہوگئیں تو وہ مال ( یعنی زکوۃ ) ان کے لئے حلال ہو گیا جو پہلے ان کے لئے حرام کیا گیا تھا۔( طحاوی مترجم کتاب الزکوۃ جلد ۱۳/۲ ) ( تشریح الزکوۃ صفحه ۱۲۱ تا ۱۲۳) میت کی منتقلی پر دوباره جنازه حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب رضی اللہ عنہ آف کوٹ قاضی ضلع گوجرانوالہ کی بہو حضرت صالحہ بی بی اہلیہ حضرت قاضی عبد الرحیم صاحب ۱۲ ۱۳ نومبر ۱۹۵۰ء کو راولپنڈی میں فوت ہو گئیں۔ان کی بابت لکھا ہے کہ آپ کو تابوت میں راولپنڈی میں دفن کر دیا گیا تھا۔جب جنوری ۱۹۵۴ء میں قاضی عبدالسلام صاحب مشرقی افریقہ سے پاکستان آئے تو تابوت نکلوا کر ربوہ لے گئے۔اس وقت قاضی عبد الرحیم رضی اللہ عنہ بھی وفات پا کر وہاں بہشتی مقبرہ کے قطعہ صحابہ میں دفن ہو چکے تھے۔