فرموداتِ مصلح موعود — Page 417
۴۱۷ ضمیمه ايك مسجد میں دوسری جماعت ڈیوٹی پر متعین افراد نماز با جماعت کے بعد دوبارہ باجماعت نماز ادا کر سکتے ہیں“ حضرت سید سرور شاہ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ جولوگ نماز با جماعت کے وقت پہرہ دیتے ہیں سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ نے ان کو اجازت دی ہوئی ہے کہ نماز کے بعد دوسری جماعت کرلیا کریں۔چنانچہ وہ 66 پانچوں وقت مسجد مبارک میں دوسری جماعت کرتے ہیں۔“ رجسٹر فتاوی حضرت سید سرور شاہ صاحب نمبر ۲ صفحه۳) سادات اور بنی ہاشم کے لئے زکوة کا مسئله حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں:۔سادات اور بنو ھاشم کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زکوۃ ان کو نہیں لینا چاہیے۔لیکن ظاہر ہے کہ اگر وہ عامل ہوں تو ان کے لئے زکوۃ جائز ہوگی کیونکہ اس صورت میں وہ زکوۃ نہیں لیں گے بلکہ کام کی مزدوری لیتے ہیں اور حق تو یہ ہے کہ بنو ھاشم کے متعلق یہ حکم کہ وہ زکوۃ نہ لیں در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک تھا جبکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی ایک خاص عظمت مسلمانوں میں تھی اور شریعت نے بھی ان کے لئے بھی خمس غنیمت میں حصہ مقرر کر دیا تھا لیکن جب اس زمانہ سے بعد ہو گیا اور اموال خمس کی آمد بند ہوگئی اور نبی کریم کی اولاد کی عظمت اس رنگ میں نہ رہی جس رنگ میں کہ قریب کے زمانہ میں تھی اور یہ خطرہ جاتا رہا کہ ارباب حکومت رسول کریم کی محبت کی وجہ سے تمام اموال زکوۃ رسول کریم کے خاندان میں ہی تقسیم کر دیں گے اور دوسرے لوگ اس سے محروم ہو جائیں گے تو حالات کی تبدیلی کی وجہ سے اس حکم میں بھی تبدیلی جائز ہوگئی۔کیونکہ شمس کے بند ہو جانے کے بعد سادات یعنی خاندان نبی کریم کے غرباء کی