فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 392

۳۹۲ متفرق جواب :۔سبقت جائز نہیں بلکہ جواب دینا بھی ناجائز ہے۔اشد مخالفین سے حضور ( مسیح موعود ) نے کلام بھی ترک کیا ہے۔(الفضل ۲ مارچ ۱۹۱۵ء۔نمبر۱۱۱ صفحه ۲ ) سوال :۔اگر کوئی شخص ( غیر احمدی ) آپ کو السلام علیکم اسلامی طریقہ پر کہے تو آپ اس کو کیا جواب دیں گے؟ جواب:۔ہم اس کو وعلیکم السلام کہیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کو کہتے تھے۔ہم تو غیر احمدیوں کو جو مکذب نہ ہوں ابتداء بھی کریں گے۔کیونکہ یہ رواج ہے۔اب اس کو وہ بات حاصل نہیں جو پہلے تھی۔جس قوم میں سلام کا رواج ہے اس کو ہم سلام ہی کہتے ہیں۔الفضل ۶ ستمبر ۱۹۱۹ء۔جلدے۔نمبر ۲۰ صفحہ ۹) حضور نے ایک دوست کو لکھوایا کہ ہندوؤں کو یا کسی کو بندگی کہنا یا پائے لاگی کہنا یہ سب ناجائز ہے۔دراصل سجدہ کے قائم مقام ہے۔الفضل ۲۰ / ۷ ارمئی ۱۹۱۵ء - جلد ۲ نمبر ۱۴۲، ۱۴۱ صفحه۱ ) رسم و رواج فرمایا۔ایک دفعہ جب میں چھوٹا تھا تو مولوی صاحب مرحوم (مولوی برہان الدین صاحب ) قادیان تشریف لائے۔میری بچپن کی عمر تھی محرم کا مہینہ تھا۔لوگوں کی دیکھا دیکھی گلے میں سرخ دھا گا جسے مولی کہتے ہیں ڈالا ہوا تھا۔مولوی صاحب نے مجھے پکڑ لیا کہ یہ بدعت ہے۔ابھی اس کو اتارو۔میں بچپن میں بوجہ شرم با ہر کم نکلتا تھا اس لئے اجنبی آدمی سے سخت ڈرا کرتا تھا۔بھاگ کر گھر گیا اور مجھے بخار ہو گیا۔حضرت صاحب نے مولوی صاحب کو بلا کر سمجھایا کہ بچوں پر اتنی سخی نہیں کرنی چاہئے۔الفضل ۱۳ ستمبر ۱۹۲۰ء - جلد ۸ نمبر ۱۹ صفحه ۲)