فرموداتِ مصلح موعود — Page 11
عقائد ونظریات کی اطاعت کے مقابلہ میں محدود ہوتی ہے اور وہ یہ کہ انتظامی معاملات جن میں جماعت کو جمع رکھنا ہوتا ہے ان میں ان کا حکم مانا جائے مثلاً قاضیوں نے جو فیصلہ کرنا ہوگا وہ خلیفہ کے حکم کے ماتحت کرنا ہوگا۔تو خلفاء کی اطاعت محدود ہوتی ہے اور صرف چند باتوں میں ہوتی ہے جو انتظامی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں مسائل فقہ سے تعلق نہیں رکھتیں۔( خطبه جمعه فرموده ۱۷ اگست ۱۹۲۳ء - الفضل ۲۴ /اگست ۱۹۲۳ء - جلد ۱۱ صفحه ۶) ایک شخص جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اسے سمجھنا چاہئے کہ خلفاءخدا مقررکرتا ہے اور خلیفہ کا کام دن رات لوگوں کی راہ نمائی اور دینی مسائل میں غور وفکر ہوتا ہے۔اس کی رائے کا دینی مسائل میں احترام ضروری ہے۔اور اس کی رائے سے اختلاف اُسی وقت جائز ہو سکتا ہے جب اختلاف کرنے والے کو ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہو جائے کہ جو بات وہ کہتا ہے وہی درست ہے پھر یہ بھی شرط ہے کہ پہلے وہ اس اختلاف کو خلیفہ کے سامنے پیش کرے اور بتائے کہ فلاں بات کے متعلق مجھے یہ شبہ ہے اور خلیفہ سے وہ شبہ دور کرائے۔پس اختلاف کرنے والے کا فرض ہے کہ جس بات میں اسے اختلاف ہوا سے خلیفہ کے سامنے پیش کرے نہ کہ خود ہی اس کی اشاعت شروع کر دے ورنہ اگر یہ بات جائز قرار دی جائے کہ جو بات کسی کے دل میں آئے وہی بیان کرنی شروع کر دے تو پھر اسلام کا کچھ بھی باقی نہ رہے۔اگر کوئی شخص اس طرح نہیں کرتا اور اختلاف کو اپنے دل میں جگہ دے کر عام لوگوں میں پھیلاتا ہے تو وہ بغاوت کرتا ہے۔(انوار العلوم جلد ۹، منہاج الطالبین صفحه ۱۶۳،۱۶۲) تمہیں امر بالمعروف میں میری اطاعت اور فرمانبرداری کرنی ہوگی اگر نعوذ باللہ کہوں کہ خدا ایک نہیں تو اسی خدا کی قسم دیتا ہوں جس کے قبضہ قدرت میں ہم سب کی جان ہے جو وحدہ لا شریک اور لیس کشمله شی ہے کہ میری ایسی بات ہرگز نہ ماننا۔اگر میں تمہیں نعوذ باللہ نبوت کا کوئی نقص بتاؤں تو مت مانی۔۔۔ہاں میں پھر کہتا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ امر بالمعروف میں میری خلاف ورزی نہ کرنا۔الفضل کا غیر معمولی پر چہ ۲۱ / مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۲)