فرموداتِ مصلح موعود — Page 339
۳۳۹ پرده پرده ” إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “ کے یہ معنے ہیں کہ وہ حصہ جو آپ ہی آپ ظاہر ہو اور جسے کسی مجبوری کی وجہ سے چھپایا نہ جاسکے خواہ یہ مجبوری بناوٹ کے لحاظ سے ہو یا بیماری کے لحاظ سے ہو کہ کوئی حصہ جسم علاج کے لئے ڈاکٹر کو دکھانا پڑے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو یہاں تک فرمایا کرتے تھے کہ ہوسکتا ہے ڈاکٹر کسی عورت کے متعلق تجویز کرے کہ وہ منہ نہ ڈھانپے۔اگر ڈھانپے گی تو اس کی صحت خراب ہو جائے گی اور ادھر اُدھر چلنے کے لئے کہے تو ایسی صورت میں اگر وہ عورت منہ ننگا کر کے چلتی ہے تو بھی جائز ہے۔بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک اگر کوئی عورت حاملہ ہو اور کوئی اچھی دایہ میسر نہ ہواور ڈاکٹر یہ کہے کہ اگر یہ کسی قابل ڈاکٹر سے اپنا بچہ نہیں بنوائے گی تو اس کی جان خطرہ میں ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ کسی مرد سے بچہ جنوائے تو یہ بھی جائز ہوگا بلکہ اگر کوئی عورت مرد ڈاکٹر سے بچہ نہ جنوائے اور مر جائے تو خدا تعالیٰ کے حضور وہ ایسی گنہگار سمجھی جائے گی جیسے اس نے خود کشی کی ہے۔پھر یہ مجبوری کام کے لحاظ سے بھی ہوسکتی ہے جیسے زمیندار گھرانوں کی عورتوں کی میں نے مثال دی ہے کہ ان کے گزارے ہی نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ کاروبار میں اپنے مردوں کی امداد نہ کریں۔یہ تمام چیزیں الاماظهر منھا میں ہی شامل ہیں۔پردہ سے مراد ( تفسیر کبیر جلد ششم تفسیر سوره نور ۲۹۹) پردہ سے مراد وہ پردہ نہیں جس پر پرانے زمانہ میں ہندوستان میں عمل ہوا کرتا تھا اور عورتوں کوگھر کی چاردیواری میں بند رکھا جاتا تھا اور نہ پردہ سے مراد موجودہ برقعہ ہے۔یہ برقعہ جس کا آج کل رواج ہے صحابہ کے زمانہ میں نہیں تھا۔اس وقت عورتیں چادر کے ذریعہ گھونگھٹ نکال لیا کرتی تھیں جس طرح شریف زمیندار عورتوں میں آجکل بھی رواج ہے۔