فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 319

۳۱۹ معاملات - لئے بھی حکم ہے کہ اپنی اولاد میں سے کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کریں۔یورپ کے لوگ اپنی ساری جائیداد اپنے سب سے بڑے بیٹے کو دے دیتے ہیں یا جس کو جتنا چاہیں اتنا دیتے ہیں۔لیکن ہم ان کے سامنے یہ بات پیش کرتے ہیں کہ اسلام نے ہر ایک کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔پس اگر مسلمان بھی اپنی اولاد کے ساتھ امتیازی سلوک کریں تو اسلام نے جو تقسیم حصص میں حکمت رکھی ہے وہ باطل ہو جاتی ہے۔اسلام کے حکم کے مطابق دین کے لئے وصیت میں زیادہ سے زیادہ ۳ را دیا جا سکتا ہے اور ہبہ میں ساری جائیداد دی جاسکتی ہے مگر وہ بات بالکل الگ ہے۔دین کے لئے بے شک ساری جائیداد انسان ہبہ کر سکتا ہے مگر اولاد میں سے کسی ایک کے نام ہبہ نہیں کر سکتا یا پھر ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایک شخص سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے چار بیٹوں میں سے بڑے تین بیٹوں کو کافی جائیدا دتجارت وغیرہ کے لئے دی ہوئی ہے اور چھوٹا لڑکا ابھی کسی کام پر نہیں لگایا اس کے پاس کوئی جائیداد نہیں ہے۔اس لئے اگر وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ بڑے لڑکے کھاتے پیتے ہیں اور ان کے پاس کافی ذخیرہ ہے۔اپنی جائیداد کو چھوٹے کے نام ہبہ کر دیتا ہے تو یہ ایک جائز صورت ہے مگر اس میں بھی شرط یہ ہے کہ دوسرے بیٹوں کو اعتراض نہ ہو۔اگر ان کو اعتراض ہو تو ایسا نہیں کر سکتا مگر کھاتے پیتے بیٹیوں کو جن کو باپ پہلے ہی کافی دے چکا ہوا ایسا اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ کہیں گے ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے۔بیسیوں باپ ایسے ہوتے ہیں جن کی آمد اپنے بیٹوں کی آمد سے بہت کم ہوتی ہے۔اس لئے ایسی صورت میں شریعت نے ہبہ کرنے کی اجازت دی ہے مگر باپ کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے دوسرے بیٹوں کا جائزہ لے۔جن کو وہ ہبہ سے محروم کر رہا ہے۔اگر وہ کھاتے پیتے ہوں تو کسی ایسے بیٹے کے حق میں جس کو باپ کی جائیداد سے تھوڑا حصہ ملا ہو ہبہ کیا جاسکتا ہے ورنہ نہیں۔اور اگر ان سب بیٹوں کی حالت یکساں ہوتو کسی ایک کے نام ہبہ کرنا جائز نہ ہوگا۔دین کے لئے ساری جائیداد کا ہبہ کرنے کی صورت تو یہ تھی کہ اس میں وہ اپنے آپ کو بھی محروم کر لیتا ہے اور بیٹوں کو بھی۔مگر کسی ایک بیٹے کے نام ہبہ کرنے کی صورت میں وہ اپنے آپ کو محروم