فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 162

۱۶۲ روزه میں اس کی صحت پھر مستقل طور پر خراب ہو جائے۔باقی جو بھی طاقت رکھتا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے ایام میں روزے رکھے۔روزہ رکھنے کی عمر الفضل ا ر ا گست ۱۹۴۵ء) میں نے دیکھا ہے عام طور پر لوگ ایک پہلو کی طرف لگ جاتے ہیں کئی ہیں جو نمازوں میں سست ہیں اور باقاعدہ وقت پر نمازیں ادا نہیں کرتے۔کئی جو نماز تو پڑھتے ہیں لیکن باجماعت نماز نہیں پڑھتے یا کم از کم با جماعت نماز ادا کرنے کا ان کو خیال نہیں ہوتا۔لیکن روزوں کے ایام میں وہ روزوں کی ایسی پابندی کریں گے کہ خواہ ڈاکٹر بھی ان کو کہہ دے کہ تمہارے حق میں روزہ اچھا نہیں اور تم خطرے میں پڑ جاؤ گے تب بھی روزہ ترک نہیں کریں گے حتی کہ بیماری میں روزہ رکھیں گے۔روزہ رکھنے کی عمر:۔پھر کئی ہیں جو چھوٹے بچوں سے بھی روزہ رکھواتے ہیں حالانکہ ہر ایک فرض اور حکم کے لئے الگ الگ حدیں اور الگ الگ وقت ہوتا ہے۔ہمارے نزدیک بعض احکام کا زمانہ چار سال کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے اور بعض ایسے ہیں جن کا زمانہ سات سال سے بارہ سال تک ہے اور بعض ایسے ہیں جن کا زمانہ پندرہ یا اٹھارہ سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے۔میرے نزدیک روزوں کا حکم پندرہ سال سے اٹھارہ سال تک کی عمر کے بچے پر عائد ہوتا ہے اور یہی بلوغت کی حد ہے۔بچوں کو روزہ رکھانا:۔میرے نزدیک اس سے پہلے بچوں سے روزے رکھوانا ان کی صحت پر بہت بُرا اثر ڈالتا ہے کیونکہ وہ زمانہ ان کے لئے ایسا ہوتا ہے جس میں وہ طاقت اور قوت حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔پس اس زمانہ میں کہ وہ طاقت اور قوت کے ذخیرہ کو جمع کر رہے ہوتے ہیں اس وقت ان کی طاقت کو دبانا اور بڑھنے نہ دینا ان کے لئے سخت مضر ہے۔بارہ سال کی کم عمر کے بچے سے روزہ رکھوانا تو میرے نزدیک ایک جرم ہے اور بارہ سال سے پندرہ سال کی عمر کے بچے کو اگر کوئی روزہ رکھواتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔پندرہ سال کی عمر سے روزہ رکھنے کی عادت ڈالنی چاہئے اور اٹھارہ سال کی عمر میں روزے فرض سمجھنے چاہئیں۔