فرموداتِ مصلح موعود — Page 123
۱۲۳ نماز جنازه ایک سوال غیر احمدی کے جنازہ پڑھنے کے متعلق کیا جاتا ہے۔اس میں ایک یہ مشکل پیش کی جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض صورتوں میں جنازہ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔اس میں شک نہیں کہ بعض حوالے ایسے ہیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اور ایک خط بھی ملا ہے جس پر غور کیا جائے گا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عمل اس کے برخلاف ہے۔چنانچہ آپ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا تھا جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہ کی تھی بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا ہے۔ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا اور شدت مرض میں مجھے غش آگیا جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رورہا تھا۔آپ یہ بھی فرماتے کہ یہ میری بڑی عزت کیا کرتا تھا لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر اسلام لے آیا ہے لیکن یقینی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہو گیا ہے تو اس کا جنازہ بھی جائز نہیں۔پھر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔(انوار العلوم جلد ۳۔انوار خلافت صفحه ۱۴۸، ۱۴۹) اگر یہ کہا جائے کہ کسی ایسی جگہ جہاں تبلیغ نہیں پہنچی کوئی مرا ہو اور اس کے مر چکنے کے بعد کوئی احمدی وہاں پہنچے تو وہ جنازہ کے متعلق کیا کرے؟ اس کے متعلق یہ ہے کہ ہم تو ظاہر پر ہی نظر رکھتے ہیں چونکہ وہ ایسی حالت میں مرا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نبی اور رسول کی پہچان اسے نصیب نہیں ہوئی اس لئے ہم اس کا جنازہ نہیں پڑھیں گے۔اگر وہ شخص خدا کے نزدیک بخشش کا مستحق ہے تو ہمارے جنازہ پڑھے بغیر ہی خدا اُسے بخش دے گا۔اور اگر وہ بخشش کے لائق نہیں تو ہمارے جنازہ پڑھنے سے بھی نہیں بخشا جائے گا۔پس جہاں ہم ہیں وہاں