فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 122

۱۲۲ نماز جنازه علیہ السلام نے کسی کا جنازہ پڑھ دیا تو وہ ہمارے لیے حجت نہیں ہے۔ہاں اگر چند معتبر آدمی حلفیہ بیان کریں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود کو کہا تھا کہ فلاں غیر احمدی فوت ہو گیا ہے آپ اس کا جنازہ پڑھ دیں اور پھر آپ نے پڑھ دیا تو ہم مان لیں گے۔کیا کوئی ایسے شاہد ہیں۔پس جب تک کوئی اس طرح نہ کرے یہ بات ثابت نہیں ہوسکتی کہ آپ نے کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز قرار دیا ہے۔اور ہمارے پاس غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھنے کے متعلق ایک بڑا ثبوت ہے اور وہ یہ کہ یہاں حضرت مسیح موعود کے اپنے بیٹے کی لاش لائی گئی اور آپ کو جنازہ پڑھنے کے لئے کہا گیا تو آپ نے انکار کر دیا۔پھر سرسید کے جنازہ پڑھنے کے متعلق مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کا خط موجود ہے کہ آپ نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔کیا وہ آپ کو کافر کہتے تھے ہر گز نہیں۔ان کا تو مذہب ہی یہ تھا کہ کوئی کافر نہیں ہے جب ان کے جنازہ کے متعلق خط لکھا گیا تو جیسا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مندرجہ ذیل خط میں ایک دوست کو تحریر فرماتے ہیں آپ نے اس پر جنگی کا اظہار فرمایا:۔متوفی کی خبر وفات سن کر خاموش رہے۔ہماری لاہور جماعت نے متفقانہ زورشور سے عرضداشت بھیجی کہ وہاں جنازہ پڑھا جائے اور پھر نوٹس دیا جائے کہ سب لوگ جماعت کے ہر شہر میں اس تقلید پر جنازہ پڑھا جائے۔اور اس سے نوجوانوں کو یقین ہوگا کہ ہمارا فرقہ صلح گل فرقہ ہے۔اس پر حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا۔فرمایا اور لوگ نفاق سے کوئی کارروائی کریں تو بچ بھی جائیں مگر ہم پر تو ضرور غضب الہی نازل ہو۔اور فرمایا ہم تو ایک محرک کے تحت میں ہیں۔بے اس کی تحریک کے کچھ نہیں کر سکتے نہ ہم کوئی کلمہ بد اس کے حق میں کہتے ہیں اور نہ کچھ اور کرتے ہیں۔تفویض الی اللہ کرتے ہیں۔فرمایا جس تبدیلی کے ہم منتظر بیٹھے ہیں اگر ساری دنیا خوش ہو جائے اور ایک خدا خوش نہ ہو تو کبھی ہم مقصود حاصل نہیں کر سکتے۔“ 66 پس ہم کس طرح کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز سمجھ سکتے ہیں۔الفضل ۲۸ مارچ ۱۹۱۵ء) متفرق امور صفحه ۴۲۴ ۴۲۳۔انوار العلوم جلد ۳)