فیضان نبوت — Page 80
اور وہ اتنی نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی امت کے لئے بطور نشان فضیلت ہوگا۔ہر کیف آیت کریمہ اليوم الملت لکم دینکر سے نبوت کا انقطاع ثابت نہیں ہوتا بلکہ امکان ثابت ہوتا ہے۔تجدید دین کے لئے نبی آسکتا ہے لیکن تکمیل دین کے لئے اب کوئی نبی مبعوث نہیں ہو سکتا۔(٢ یاد رہے کہ اگر آئممْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي کے یہ معنے کئے جائیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ نبوت کی نعمت ختم ہوگئی ہے اور اب کوئی نبی نہیں آسکتا تو یہ قرآنی محاورہ کے خلاف ہوگا کیونکہ قرآن مجید میں صاف مذکور ہے کہ جب یوسف علیہ السلام نے اپنا خواب اپنے باپ یعقوب علیہ السّلام کو سُنایا تو انہوں نے فرمایا کہ ديم نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَعَلَى آلِ يَعْقُوبَ كما اتمهَا عَلَى أَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاهِيمَ و اسحق یوسف آیت )) یعنی اللہ تعالے تجھ پر اور یعقوب کی ساری آل پر اپنی نعمت پوری کرے گا جیسا کہ اس نے قبل ازیں تیرے دو بزرگوں ابراہیم اور اسحاق پر اپنی نعمت پوری کی ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ ابراہیم علیہ السلام پر بھی نعمت کا انتظام کیا