فیضان نبوت — Page 53
۵۳ مرتاب (مومن آیت ۳۵) یعنی یوسف اس سے قبل دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آچکا ہے مگر جو کچھ وہ تمہارے پاس لایا تھا اس کے متعلق تم شک ہی میں رہے یہانتک کہ جب وہ فوت ہو گیا تو تم نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اللہ تعالے اس کے بعد کوئی کول مبعوث نہیں کرے گا۔اسی طرح اللہ تعالیے ہر مشرف اور مرتاب کو گمراہ قرار دیتا ہے۔دیکھئے یوسف علیہ السلام کے متعلق بھی لوگوں کا یہی اعتقاد تھا کہ اب ان کے بعد اللہ تعالے کوئی رسول مبعوث نہیں کریگا لیکن قرآن کریم ایسا اعتقاد رکھنے والوں کو مسرت اور مرتاب قرار دیتا ہے۔اور ان پر گمراہی کا فتویٰ لگاتا ہے جیسا کہ کذلِكَ يُضِلُّ الله مَنْ هُوَ مُشْرِف مرتاب کے جملے سے ظاہر ہے۔اس پر مولوی صاحب خاموش ہو گئے۔اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ خاتم کا مطلب علیہ وسلم کے بعد سلسلہ نبوت کو منقطع مانتے ہیں انہوں نے مسیح موعود کی پیشگوئی سے صرف نظر کر کے تشریحی نبیوں کے ساتھ غیر تشریعی نبیوں کا انقطاع بھی ضم کر لیا ہے حالانکہ اگر خاتم کا معنے ختم کر نیوالا بھی تسلیم کر لیا جائے (اگر چہ یہ جائز نہیں کہ قائم کو خاتم کہا جائے۔ڈر منشور) تو پھر بھی اس کا مطلب