فیضان نبوت — Page 52
۵۲ فرقہ فرقہ ہو چکے ہوں تو اس صورت میں بھی نبی آیا کرتے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ ہے :- ليَحْكُم بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ - دبقرہ آیت ۲۱۴ یعنی نبیوں کی بعثت کی یہ غرض بھی ہوا کرتی ہے۔کہ لوگوں کے مذہبی اختلافات کا فیصلہ کریں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جہاں یہ نشاندہی کی ہے کہ باہمی اختلافات کی وجہ سے میری امت تہتر فرقوں میں منقسم ہو جائیگی (مشکوۃ) وہاں آپ نے پیش گوئی بھی فرمائی ہے کہ میری امت میں ایک مہدی اور سیح آئیگا جو حکم اور عدل ہوگا اور امت کے مذہبی اختلافات کا فیصلہ کریگا۔(مسند احمد بن حنبل) پس ان تصریحات کے باوجود یہ اعتقاد رکھنا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا ایک گمراہی کا اعتقاد ہے۔به شنکر مولوی صاحب چونک پڑے اور چھیجا کر فرمایا کہ یہ کہاں لکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ سورۃ مومن میں اور یہ آیت پڑھ کر سنائی :- وَلَقَدْ جَاءَ كُمْ يُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَتِ فَمَا زِلتُم فِى شَاةٍ مِمَّا جَاءَ كُمْ بِهِ ، حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ تَبْعَثُ اللَّهُ مِنْ بَعد رَسُولَاء كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ