فیضان نبوت — Page 183
InF السموت والارض ينكينُ الْقَمَرُ لاول ليْلَةٍ مِّن رَّمَضَانَ وَتَنْكَسِتُ الشمس في النِّصْبِ مِنْهُ وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوتِ وَالاَرضِ - ) دار قطنی جلد اول مشتا چنانچہ خدائے قادر و توانا کے اسلام اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق سوداء کے ماہ رمضان کا سا چہ میں عین انہیں تاریخوں کو جن کی حدیث میں نشاندہی کی گئی تھی چاند اور سورج کو گرہن لگا جس کے نتیجہ میں ہزار ہا سعید روحوں نے امامم وقت کو شناخت کر کے اس پر ایمان لانے کی سعادت حاصل کی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کر چودھویں صدی تک نبوت کے کئی دعویدار کھڑے ہوئے مگر ان میں سے کوئی بھی ایسا دعویدار نہیں تھا جس کی صداقت پر چاند اور سورج نے ماہ رمضان میں اس طرح مقررہ تاریخوں پر گواہی دی ہو۔ایک بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلامحمد صاحب قادیانی ہی ایسے دعوید اللہ تھے جن کے وقت یہ عظیم الشان نشان ظاہر ہوا اور جنہوں نے اپنے آقا سرور کائنات فخر موجودا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات سے کامل حصہ پا کر یہ اعلان کیا کہ :- "اگر آسمانی نشانوں میں کوئی میرا مقابلہ کر سکے تو میں