فیضان نبوت — Page 168
رویا کے بعض پہلوؤں پر حدیث میں بھی روشنی ڈالی گئی ہے مثلا بخاری اور مسلم میں آتا ہے :- الرؤيا الصالِحَةُ مِنَ اللهِ وَالْحُلُمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَاتِ أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثُ بِهِ إِلَّا مَنْ تُحِبُّ وَإِذَا اى ما يكره فَلْيَتَعَوَّذُ بِاللهِ مِنْ شَرِهَا دَ مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَليَتَفَلَ ثَلَانَّا وَلا يُحَدِّثُ بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرُّة - درواه بخاری و سلیم یعنی رویائے صالحہ اللہ تعالے کی طرف سے ہوتی ہے۔اور حلم شیطان کی طرف سے۔پس جب تم میں سے کوئی پسندیدہ خواب دیکھے تو صرف اس شخص کو بتائے جو اس کا دوست ہو اور جیب کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اس کے شر اور شیطان کے شر سے بچنے کے لئے اللہ تعالے کی پناہ مانگے اور تین دفعہ تھوک دے اور یہ خواب کسی کو نہ بتائے تو اس صورت میں اس کا بُرا اللہ ظاہر نہیں ہوگا۔اسی طرح صحیح مسلم میں آتا ہے :- إذا راى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَايَرَ هُهَا