فیضان نبوت — Page 167
146 جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ان کے لئے اس ور ہی زندگی میں بھی بشارات کا انعام مقدر ہے اور اخروی زندگی میں بھی۔مذکورہ بالا آیات سے ظاہر ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے دوستی کا تعلق استوار کرتے ہیں وہ نہ صرف شیطان کی تخریف سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ اپنے ایمان اور تقویٰ کے طفیل ایک طرح کی عالم قدس کے ساتھ مناسبت پیدا کر لیتے ہیں جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو اکثر ایسے خواب دکھائے جاتے ہیں جو بشارات پر مشتمل ہوتے ہیں اور دل میں آہنی میخ کی طرح گڑ جاتے ہیں۔اور امام ابن سیرین کا یہ فرمانا کہ مکہ وہ خواب دیکھنے والا نماز کے ذریعہ دعا کرے اس بناء پر ہے کہ محافظ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی مکروہ خواب کے بداثرات سے بچا سکتا ہے اس لئے انسان کے لئے یہی لازم ہے کہ وہ نماز کے ذریعہ انسی سے دعا مانگے سورہ تمل میں آتا ہے:۔امن يجيب المضطر إذا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السوء - رنمل آیت ۶۳) یعنی اللہ تعالے ہی بیکسوں کی دُعائیں سنتا ہے اور ان کی تکالیف کو رفع کرتا ہے۔پین رو بلا کے لئے اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیئے۔