فیضان نبوت — Page 90
9۔اور اگر کہا جائے کہ اصلاح کے لئے علماء ہی کافی ہیں کسی نبی کی کیا ضرورت ہے ؟ تو یہ درست نہ ہوگا وجہ یہ کہ اس تاریک دور میں جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے علماء کی حالت تو خود قابل اصلاح ہوگی جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- ا تكون في أُمَّتِي فَزَعَةً فَيَصِيرُ النَّاسُ إلى عَلَمَانِهِمْ يَا ذَا هُمْ قِرَدَةً وَخَنَازِيرُ (کنز العمال جلد ، من 19 ) یعنی ایک وقت آئے گا کہ میری امت میں گھبراہٹ پیدا ہو گی تب لوگ اپنے علماء کی طرف رجوع کریں گے تو انہیں معلوم ہو گا کہ وہ علماء نہیں رہے بلکہ بندر اور خنزیر ہو چکے ہیں۔غور فرمائیے۔کیا ایسی ناگفتہ بہ حالت میں علماء سے اصلاح کی توقع وابستہ کی جاسکتی ہے ؟ اور کیا ایسے تاریک دور میں سوادِ اعظم اور اجماع " کی کوئی حیثیت باقی رہ جاتی ہے ہے (۱۳) تعجب ہے کہ ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ دین چو نکہ مکمل ہو چکا ہے اس لئے اب کوئی نبی نہیں آسکتا اور دوسری طرف یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امت مسلمہ میں سنیں جھوٹے نبی پیدا ہوں گے گویا دین کی تکمیل جھوٹے نبیوں کی آمد میں تو روک نہیں جو مومنوں کو کا فراور