فیضان نبوت — Page 89
۸۹ لوگوں کو دنیوی حسنات کے علاوہ اُخروی حسنات بھی حاصل ہوتی ہیں تو کیا اس کا انقطاع مذکورہ بالا آیت کے منافی نہ ہو گا ؟ or اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دینِ اسلام کامل بھی ہے اور الہی وعد کے مطابق محفوظ بھی ہے لیکن چونکہ امت کے افراد محفوظ نہیں اور ان کا گمراہ ہونا ممکنات سے ہے اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے خود بھی فرمایا ہے :- خَيرُ القُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثمَّ الَّذِينَ يَلُوْلَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الكَذِبُ۔دبخاری جلد ۲ ص ۱ مطبوعہ مصری یعنی بهترین زمانہ میرا ہے پھر ان کا جو اُن سے متصل ہیں پھر ان کا جو ان سے متصل ہیں۔پھر جھوٹ پھیل جائیگا۔تو ایسی حالت میں سوائے اس کے اور کیا چارہ کا ر ہو سکتا ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی مامور آکر اصلاح امت کا فریضہ سرانجام دے ہاں اگر تکمیل دین کے نتیجہ میں امت مسلمہ ہر قسم کے خطرات سے محفوظ ہو جاتی اور اس کی حالت ویسی ہی رہتی جیسی کہ آنحضرت کے زمانہ میں تختی تو پھر واقعی کسی مامور کے آنے کی ضرورت نہ تھی۔لیکن جب خطرات موجود ہیں تو پھر ان کے تدارک کے لئے خدا کا مامور کیوں نہ آئے؟