فیضان نبوت — Page 87
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ - (حجر آیت ۱۰) میں اللہ تعالیٰ نے بے شک قرآن کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے لیکن یا درکھنا چاہیے کہ اس سے صرف لفظی حفاظت ہی مراد نہیں۔بلکہ معنوی حفاظت بھی مراد ہے اور معنوی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ ہر زمانہ میں ایسے مظہر وجود پیدا ہوتے رہیں جو قرآنی تعلیمات کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔کیونکہ قرآن کے بعض حصے ایسے کہ جب تک کوئی ان کا عملی نمونہ نہ دکھائے سمجھ میں نہیں آسکتے۔مثلاً خدا کا عالم الغیب ہونا۔مجیب الدعوات ہونا۔قادر مطلق ہونا اور اس کا اپنے برگزیدہ بندوں پر الہام نازل کرنا اور ان کو نفرت غیبی سے نوازنا وغیرہ ایسے امور ہیں جو عملی نمونہ کے محتاج ہیں اور ایسے حصوں کو وہی لوگ دلنشین کر سکتے ہیں جو صاحب حال ہوں پس تکمیل دین کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی معنوی حفاظت سے دستکش ہو جائے۔10 تزکیہ نفوس کے لئے نیک لوگوں کی صحبت از میں ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے :- كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ - (توبہ آیت (119) کہ راست بازوں کے ساتھ رہو۔