فیضان نبوت

by Other Authors

Page 59 of 196

فیضان نبوت — Page 59

ابنِ مریم ہوا کرے کوئی میرے دُکھ کی دوا کرے کوئی ردیوان غالب) باقی رہا نہ دل کا لفظ تو اس کے مصداق مسیح اسرائیلی نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔اور فوت شدہ آدمی کے متعلق قرآن کریم کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتا۔لامحالہ ماننا پڑے گا کہ یہ لفظ اس مسیح موجود کے لئے ہی بطور را گرامی دارد ہوا ہے جس کو امت محمدیہ میں پیدا ہوتا ہے اور جو امتی نبی کہاں ہیگا ایا درہے کہ اتنی نبی ایک نئی اصطلاح ہے جو نئی سے معرض ظہور میں آئی ہے اور یہ اصطلاح آنحضرت صلے اللہ متی نبی کی اصطلاح ہے جو خاتم النبین کی تھی اصطلاح علیہ وسلم اور امت مسلمہ کے لئے باعث عربت ہے نہ کہ باعث منقصت کیونکہ امتی نبی سے مراد ایسا نہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے آپ کی امت میں سے آئے نہ کہ کئی دوسرے نبی کی امت میں سے اور آپ کے دین کی تجدید کے لئے مبعوث ہو نہ کہ کسی دوسرے نبی کے دین کی تجدید کے لئے۔پس جس طرح خاتم النبین کی خصوصیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی نبی کو حاصل نہیں اسی طرح امتی نبی کی خصوصیت بھی است محمدیہ کے سوا اور کسی امت کو حاصل نہیں اور ان دونوں مو وسعتوں سے در اصل آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا کمال خصوصی دکھانا