فیضان نبوت

by Other Authors

Page 29 of 196

فیضان نبوت — Page 29

۲۹ نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ میں اس کی حفاظت کا وعدہ ہے اور جب دین مکمل ہو جانے کے بعد محفوظ بھی ہو گیا تو نئے دین کی ضرورت بھی نہ رہی کیونکہ یہ امر اس کے دائمی ہونے پر دال ہے اور نئے دین کی ضرورت اس وقت پیش آیا کرتی ہے جب گذشتہ دین ناقص و نا مکمل ہو یا غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے محترف و مبدل ہو چکا ہو۔قرآنی شریعت چونکہ مکمل بھی ہے اور محفوظ بھی ہے اس لئے تشریعی نبی کی ضرورت بھی نہ رہی۔دوسری قم کی نبوت سے ہم بند مانتے ہی وہ غیر تشریعی استقل نبوت ہے اور اسکا بندر ماننا آیت کریمہ :۔ومَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَا وليكَ مَعَ الَّذِينَ العَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصَّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ رنساء آیت ) کے اقتضاء سے ہے۔اور اس آیت میں آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی اطا کی شرط پیش کر کے اس امر کی تحدید کر دی گئی ہے کہ اب اس شخص کو ہی نبوت کا انعام حاصل ہو سکتا ہے جو آپ کے حلقہ اطاعت میں داخل ہو وہیں۔یوں مستقل نبوت کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔اور اب کسی کو براہ راست نبوت کا انعام حاصل نہیں ہو سکتا۔تیسری قسم کی نبوت کو جو غیر تشریعی غیر مستقل نبوت ہے ہم بند ہیں مانتے کیونکہ اگر وہ بند ہوتی تو آیت کریمہ وَمَنْ يُطِعِ الله