فیضان نبوت — Page 164
14M یعنی خوابوں کی تین قسمیں ہیں۔ایک حدیث النفس ہے دوسرے شیطان کی تخویف اور تغیر ہے۔بشری جو اللہ تعالے کی طرف سے دکھائی جاتی ہے۔اور جو مگر وہ خواب دیکھے اسے چاہیئے کہ وہ کسی سے بیان نہ کر ہے۔اور اسی قویت اٹھے اور نماز کے ذریعہ دعا کرے تاکہ اس کے ضرر سے محفوظ رہے۔یا درکھنا چاہیے کہ حدیث النفس سے مراد تو وہ خواہیں ہیں جو انسان اپنی طبیعت کی رو کے تحت عام طور پر دیکھتا رہتا ہے کیونکہ اس کا دماغ کسی وقت بھی بے خیال نہیں رہتا۔بیداری کی حالت میں بھی اس کے دماغ میں خیالات آتے رہتے ہیں اور خواب کی حالت میں بھی۔طالب علم جو دن کو پڑھنے میں مشغول رہتے ہیں طبیعت کی رو کے تحت رات کے وقت خواب میں بھی اسی شغل میں نئے رہتے ہیں۔ایسا ہی پیشہ وروں کا حال ہے۔درزی۔درزی کے کام میں اور دھوبی۔دھوبی کے شغل میں مصروف رہتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ جس طرح بیداری میں خیالات آتے اور ساتھ ساتھ بھولتے جاتے ہیں۔خواب میں بھی خیالات آتے اور ساتھ ساتھ بھولتے جاتے ہیں اور انسان اس بھول کی وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی خواب نہیں آیا حالانکہ انسانی دماغ کسی وقت بھی خیالات کی آمد ورفت سند خالی نہیں رہ سکتا اور خواب میں بھی یہ سلسلہ برابر جاری رہتا ہے