فیضان نبوت

by Other Authors

Page 138 of 196

فیضان نبوت — Page 138

کیوں فرمایا :- ۱۳۸ من أدْرَكَ مِنكُمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَلْيَقْرَتَهُ منى السلام - (طبرانی و در منشور جلد ۲ ص ۴۲۵ یعنی جس شخص کو مسیح موعود کی ملاقات نصیب ہورہ میری طرف سے اس کو میرا سلام پہنچا دے ادے۔جائے حیرت ہے کہ خدا کا رسول تو مسیح موخود کو سلام کا تحفہ بھیج رہا ہے اور تم لوگ سرے سے اس کی آمد کے ہی منکہ ہوں۔اگر تمہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطیع و منقاد ہونے کا دعوی ہے تو تمہارا فرض تھا کہ سرور کائنات محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے تحت مسیح وقت کی خدمت میں سلام کا تحفہ پیش کرتے سلام باقی رہا یہ خدشه که جدید رسول کے آنے سے امت انتشار کا شکار ہو جائے گی تو یہ خدشہ بے بنیاد ہے۔وجہ یہ کہ نبی تو آتا ہی اس وقت ہے جب ہر طرف تشتت و انتشار کا دور دورہ ہوتا ہے۔اور کیمیتی و ہم آہنگی کا نام و نشان باقی نہیں رہتا پس ایسے وقت میں اس کا آنا اتحاد کا موجب ہو گا نہ کہ تفرقہ کا۔دوسرے۔نور تشریعی نبی کوئی نیا کلمہ لے کر نہیں آتا۔اور نہ کسی نئے قبلہ کی طرف بلاتا ہے۔اور نہ ہی کوئی نئی اقت بناتا ہے بلکہ ایسا نہی سابقہ شریعت کے ذریعہ ہی اصلاح کا فریضہ سر انجام دیتا ہے۔اس لئے انتشار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔