فیضان نبوت

by Other Authors

Page 114 of 196

فیضان نبوت — Page 114

الگ الگ گردہ تھے جن کو ایک امت نہیں کہا جاسکتا۔پس وہ اقت واحدہ امت محمدیہ ہی ہے جس کی طرف یہ رسل عند الضرورت آئیں گے۔مذکورہ بالا آیات سے صاف ظاہر ہے کہ نبوت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا بلکہ قیامت تک جاری ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اب جو بھی کوئی مبعوث ہوگا وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا اُتنی ہو گا اور آپ کے دین کی خدمت کے لئے آئے گا۔اور اگر کسی نامور کا آنا آیت خاتم النب تین کے مفہوم کے خلاف ہوتا تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کا منصب عطا کرنے والا علیم و خبیر خدا قرآن میں آئندہ ماموروں کے آنے کی خبر ہر گز نہ دنیا۔کیا اللہ تعالے کے قول اور فعل میں تضاد واقع ہو سکتا ہے ؟ حاشا وکلا۔ہرگز نہیں ہرگز نہیں اور یہ معنے حدیث کے خلاف اس لئے ہیں کہ اس میں صاف پیشنگوئی موجود ہے کہ آخری زمانہ ہمیں ایک مسیح آئے گا جو نبی اللہ ہوگا اور اس پر وحی نازل ہوگی (صحیح مسلم) اسی طرح اس موجود کے متعلق یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس میں تیسوای صفات بھی ہوں گی اور جہڑی صفات بھی۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- يُوشِكَ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ أَنْ يَلْقَى عِيسَى ابن مريم إمَا مَا مَهْدِيَّا وَحَكَمَا عَادِلًا - رمسند احمد بن حنبل جلد صلا۲ یعنی جو تم میں سے زندہ رہے گا وہ عیسی بن مریم کو ملینگا