فیضان نبوت — Page 73
۷۳ اور جس توجہہ سے رسول الله کا روحانی ابوت کی توجیہ الفظ مومنوں کے باپ کے معنوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ تبلیغ رسالت کے نتیجہ میں جو لوگ حق کو قبول کر لیتے ہیں اور خدا کے رسول پر ایمان لے آتے ہیں ان کے اندر اس ایمان کی وجہ سے ایک خاص قسم کی روح پیدا ہو جاتی ہے جس کے لئے اعمال صالحہ کا وجود بطورہ ایک جسم کے ہوتا ہے اور ان روحانی تولد پانے والے افراد کو مومن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور خدا کا رسول ان کے لئے بطور باپ کے ہوتا ہے۔کیونکہ مومن کا روحانی تولد اور روحانی وجو د رسول کے توسط سے ہی ظہور میں آتا ہے۔بہر کیف جس طرح جسمانی تولد کا باعث مرد کی رجولیت ہوتی ہے اسی طرح روحانی تولد کا سبب رسول کی قوت قدسیہ ہوتی ہے اور جس طرح جسمانی تولد کے لئے مناسب استعداد کا ہونا ضروری ہے اسی طرح روحانی تو لد کے لیئے بھی مناسب استعداد کا ہونا ضروری ہے۔اور جس طرح جسمانی تو تر کے سبب اور توسط کا نام باپ رکھا جاتا ہے اسی طرح روحانی تولد کے سبب اور توسط کا نام بھی باپ رکھا جاتا ہے۔اور جس توجیہ سے خاتم النبین کا لفظ نبیوں کے باپ کے معنوں میں لیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ لغوی لحاظ سے خَاتَم بفتح تاء کے منے مر کے ہیں کیونکہ تھا نستم اسم آلہ ہے نہ کہ اسم فاعل اور بھیا کہ