فیضان نبوت

by Other Authors

Page 69 of 196

فیضان نبوت — Page 69

۶۹ کی دونوں صورتیں ہی غلط پیش کیں۔اعتراض کی پہلی صورت کا جواب آیات قرآنی ذوالوجوہ ہیں۔ہو چکا ہے۔اب اعتراض کی دوسری صورت کا جواب پیش کیا جاتا ہے۔لیکن قبل اس کے کہ اعتراض کا جواب دیا جائے یہ عرض کرنا ہے محمل نہ ہوگا۔کہ قرآن کریم کی آیات ذا لو جو ہیں اور ایک ایک آیت سے کئی کئی مطالب مستنبط ہو سکتے ہیں۔اور کلام مجید کی آیات کی بیعجیب شان ہے کہ وہ صرف سیاق و سباق کے لحاظ سے ہی اپنے اندر مختلف مطالب نہیں رکھتیں بلکہ اپنی مستقل حیثیت سے بھی متعدد مطالب کی حامل ہیں۔جیسے چراغ اور کو اکب اجتماعی صورت میں بھی روشنی دیتے ہیں۔اور انفرادی حیثیت ہیں بھی راہ دکھانے اور روشنی پھیلانے کا موجب ہیں ے یا الہی تیرا فرقان ہے کہ اک عالم ہے رومین) جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا الغرض آیت خاتم النبیین کا ایک مطلب تو سیاق وسباق کے لحاظ سے ہے جو اد پر بیان ہو چکا ہے اور دوسر استقل حیثیت سے ہے جواب بیان کیا جاتا ہے۔- یادر ہے کہ آیت خاتم النبیین کے آیت موصوفہ کا دوسرا مطلب اپنے فقرہ مَا كَانَ مُعَةٌ ؟ ابا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ میں اگر چہ اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے